حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ اس حدیث نبویﷺ کا راوی ہے۔۔اسی روایت کے اندر نماز میں شیطانی وساوس سے حفاظت کی دعا ہے
نماز میں شیطانی وساوس سے حفاظت کی دعا
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ جب آپ نماز شروع کرتے تو تین بار فرماتے :
( اللّٰهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا ، اللّٰهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا )
’’ اللہ بڑا ہے ، سب سے بڑا ، اللہ بڑا ہے ، سب سے بڑا ‘‘ پھر تین بار فرماتے :
( الْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا ، الْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا )
’’ سب تعریف اللہ ہی کی ہے ، بہت زیادہ تعریف ۔ سب تعریف اللہ ہی کی ہے ۔ بہت زیادہ تعریف ۔‘‘ پھر تین بار کہتے :
( سُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا )
’’ میں صبح شام اللہ کی تسبیح و تقدیس کرتا ہوں ۔‘‘ ( اور بعد میں یہ کلمات بھی پڑھتے : )
( اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ ، مِنْ هَمْزِهِ ، وَنَفْخِهِ ، وَنَفْثِهِ )
’’ اے اللہ ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں ، مردود شیطان سے ، اس کے ( شرارت کے ساتھ ) چھونے سے ، اس کی پھونک سے اور اس کے تھتکارنے سے ۔‘‘
فائدہ حضرت عمرو ( بن مرہ ) رحمہ اللہ نے فرمایا : اس کے چھونے سے مراد موتہ کی بیماری ہے ۔ اور اس کا تھتکارنا ( خلاف شریعت ) شاعری ہے ، اور اس کی پھونک تکبر ہے ۔
(سنن ابن ماجہ 807)
It was narrated from Ibn Jubair bin Mut’im that his father said:
“I saw the Messenger of Allah (ﷺ) when he started the prayer. He said:
‘Allahu Akbaru kabiran, Allahu Akbaru kabiran (Allah is the Most Great indeed),’ three times;
‘Al-hamdu Lillahi kathiran, al-hamdu Lillahi kathiran (Much praise is to Allah),’ three times;
‘Subhan Allahi bukratan wa asilan (Glory is to Allah morning and evening),’ three times;
‘Allahumma inni a’udhu bika minash-Shaitanir-rajim, min hamzihi wa nafkhihi wa nafthihi (O Allah, I seek refuge in You from the accursed Satan, from his madness, his poetry, and his pride).”
IBNI MAJAH HADEES NO 807
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَاصِمٍ الْعَنَزِيِّ ، عَنِ ابْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ ، قَالَ : «اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا ، اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا» ثَلَاثًا ، «الْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا ، الْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا» ثَلَاثًا ، «سُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا» ثَلَاثَ مَرَّاتِ ، «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ ، مِنْ هَمْزِهِ ، وَنَفْخِهِ ، وَنَفْثِهِ» قَالَ عَمْرٌو : هَمْزُهُ : الْمُوتَةُ ، وَنَفْثُهُ : الشِّعْرُ ، وَنَفْخُهُ : الْكِبْرُ
سنن ابن ماجہ 807
