زندگی میں اولاد کے درمیا ن جائیداد کی تقسیم

Reviewed Updated May 24, 2026 55

Question

ایک شخص اپنی زندگی میں اپنی جائیداد اپنے بچوں میں تقسیم کرنا چاہتا ہے، جبکہ اس کا ایک بیٹا پہلے ہی وفات پاچکا ہے۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ آیا اس فوت شدہ بیٹے کا بھی اس جائیداد میں کوئی حصہ ہوگا یا نہیں؟

Answer

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص اپنی زندگی ہی میں اپنا مال اپنی اولاد میں تقسیم کرنا چاہے تو شرعاً یہ میراث نہیں بلکہ والد کی طرف سے اولاد کے لیے ہبہ (گفٹ) ہوگا ہبہ کا مستحب طریقہ یہ ہے کہ تمام اولاد کو برابر حصہ دیا جائے جتنا حصہ بیٹوں کو دیا جاتا ہے اتنا ہی بیٹیوں کو بھی دیا جائے۔  صورت مسئولہ میں مذکورہ شخص اگر اپنی زندگی ہی میں اپنا مال اولاد میں تقسیم کرنا چاہتا ہے تو چونکہ یہ ہبہ ہے اس لیے اس کو تقسیم کرنے کا اختیار ہے، اگر فوت شدہ بیٹے کی اولاد کو حصہ دینا چاہے تو اپنی صوابدید کے مطابق ان کو ہبہ دے سکتا ہے۔   ينبغي للرجل أن يسوي بين ولده في النحل ولا يفضل بعضهم على بعض.(بدائع الصنائع، کتاب الهبة، ج:6، ص:127) ولو وهب رجل شيئا لأولاده في الصحة وأراد تفضيل البعض على البعض في ذلك لا رواية لهذا في الأصل عن أصحابنا، وروي عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - أنه لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل له في الدين، وإن كانا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف - رحمه الله تعالى - أنه لا بأس به إذا لم يقصد به الإضرار، وإن قصد به الإضرار سوى بينهم يعطي الابنة مثل ما يعطي للابن وعليه الفتوى هكذا في فتاوى قاضي خان وهو المختار، كذا في الظهيرية.(الفتاوى الهندية كتاب الهبة، ج:4، ص:391) فتویٰ نمبر : 6672/297/328 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2026-05-24 کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام)

Share: WhatsApp Facebook Telegram X Copy