نبی علیہ السلام کا سایہ مبارک

Reviewed Updated November 4, 2025 68

سوال

نبی علیہ السلام کا سایہ مبارک تھا یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ نبی کریم ﷺ جسمانی اور انسانی تقاضے رکھتے تھے۔ آپ ﷺ کھاتے تھے، سوتے تھے، بیمار بھی ہو جاتے تھے، اور احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کا جسمِ مبارک سایہ بھی ڈالتا تھا۔چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی ایک روایت ہے، فرماتی ہیں کہ:  رسول اللہ ﷺ ایک سفر میں تھے۔ صفیہ رضی اللہ عنہا کی اونٹنی بیمار ہو گئی، جبکہ زینب رضی اللہ عنہا کے پاس کچھ اضافی اونٹنیاں تھیں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے زینب رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ صفیہ کی اونٹنی بیمار ہو گئی ہے، اگر تم اپنی اونٹنیوں میں سے ایک اونٹنی اسے دے دو۔تو زینب رضی اللہ عنہا نے کہا: "کیا میں اُس یہودن (صفیہ) کو دوں؟"تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے ناراضگی اختیار فرما لیا، اور ذو الحجہ اور محرم کے مہینے، یعنی دو یا تین مہینے تک، ان کے پاس نہیں گئے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ یہاں تک کہ زینب مایوس ہو گئیں اور انہوں نے اپنا بستر بھی بدل دیا ۔کہتی ہیں: ایک دن دوپہر کے وقت میں بیٹھی تھی کہ اچانک مجھے رسول اللہ ﷺ کا سایہ آتا ہوا دکھائی دیا۔   حدثنا عفان، حدثنا حماد، قال حدثنا ثابت: عن شميسة عن عائشة: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان في سفر له، فاعتل بعير لصفية، وفي إبل زينب فضل، فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إن بعيرا لصفية اعتل، فلو أعطيتها بعيرا من إبلك ". فقالت: أنا أعطي تلك اليهودية. قال: فتركها رسول الله صلى الله عليه وسلم ذا الحجة والمحرم، شهرين أو ثلاثة، لا يأتيها، قالت: حتى يئست منه وحولت سريري. قالت: فبينما أنا يوما بنصف النهار، إذا أنا بظل رسول الله صلى الله عليه وسلم مقبل. قال عفان: حدثنيه حماد، عن شميسة، عن النبي صلى الله عليه وسلم، ثم سمعته بعد يحدثه عن شميسة، عن عائشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم. وقال بعد: في حج أو عمرة. قال: ولا أظنه إلا قال: في حجة الوداع۔( مسند الإمام أحمد بن حنبل،مسند الصديقة عائشه بنت الصديق رضي الله عنها ،ج:41،ص:463،رقم الحديث:25002) فتویٰ نمبر : 6516/297/328 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2025-11-04 کتاب العقائد عقائد کابیان

Share: WhatsApp Facebook Telegram X Copy