واضح رہے کہ اگر کوئی گزشتہ زمانہ میں کسی بات پر باخبر ہونے کے باوجود قصدا جھوٹی قسم کھائے تو اسے شریعت کی اصطلاح میں یمین غموس کہتے ہے ،اس میں اگر چہ اس شخص پر کوئی کفارہ نہیں آتا لیکن قصدا جھوٹ بولنے کی وجہ سے سخت گنہگار ہوگا ، کیونکہ رسول اللہ نے جھوٹی قسم کو کبیرہ گناہوں میں سے قرار دیا ہے اور جھوٹ بولنےکو منافق کی نشانی شمار کیا ہے ۔ صورت مسئولہ کے مطابق حتی الوسع کوشش کرکے خود کو جھوٹ اور دھوکہ دہی سے بچائے،اگر مجبوری ہو، تو ایسا طریقہ اختیار کرے کہ جھوٹ بولنے سے بھی بچے اور قسم کھانے کی ضرورت بھی نہ پڑے، تاہم اگر پھر بھی کسی نے جھوٹی قسم کھائی تو اس صورت میں سخت گنہگار ہوگا اور اس پر سچے دل سے اللہ کی بارگاہ میں توبہ واستغفار کرنا ضروری ہوگا۔ عن عبد الله بن عمرو، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: الكبائر: الإشراك بالله، وعقوق الوالدين، وقتل النفس، واليمين الغموس.(صحيح البخاری، كتاب الأيمان والنذور،باب اليمين الغموس، ج:6،ص:2457، رقم الحديث:6297) اليمين الغموس هي: الحلف على أمر ماض، يتعمد الكذب فيه؛ فهذه اليمين يأثم بها صاحبها، ولا كفارة فيها إلا الاستغفار۔(النهاية في شرح الهداية كتاب الأيمان،ج: 10، ص:93) فتویٰ نمبر : 10729/297/321 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2025-08-27 کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام)
الزام سے بچنے کے لئے جھوٹی قسم کھانا
سوال
اگر کسی شخص پر کوئی الزام ہو اور وہ اس الزام کی تردید کرنے کے لیے جھوٹی قسم کھانے کا سوچے، تاکہ اس کی عزت بچ جائے، تو کیا اس کے لیے جھوٹی قسم کھانے کی گنجائش ہے؟
جواب
Related Fatwas
گھر خريدنے كے بعد تجارت كی نیت کرنے سے زکوۃ کا وجوب
ہم پانچ بہن بھائیوں نے ایک مشترکہ زمین بیچی جو وراثت میں تھی، اس کے بعد ایک عدد مکان خریدا، ہماری نیت…
رہائش کے لیے خریدے گئے گھر کی مالیت میں قربانی
ایک شخص ایک گھر میں رہتا ہے اور اس نے دوسرا گھر اپنے اور اپنے بچوں کی رہائش اور استعمال کے لیے…
بیوی کی رضاعی بہن سے نکاح کرنا
اگر کسی شخص کے نکاح میں ایک عورت ہو تو کیا وہ اس عورت کی رضاعی بہن سے نکاح کر سکتا ہے…
نماز یا وظائف کے بعد سجدہ شکر ادا کرنا
اگر کوئی آدمی نماز یا وظائف کرنے کے بعد سجدہ شکر کرے تو کیا یہ جائز ہے یا نہیں؟
ایک مجلس میں تین طلاقوں کا حکم
ہمارے علاقے میں ایک شخص نے اپنی بیوی کو اکٹھے تین طلاق دیے اس نے پہلے دیوبندی علما سے مسئلہ پوچھ لیا…
گاؤں شمشی خیل میں نماز جمعہ کی ادائیگی
گاؤں شمشی خیل کی آبادی تقریبا تین ہزار ہے،اس گاؤں میں ایک میڈیکل سٹور ،پانچ عام دکانیں ،ایک چکی اور ڈیڑھ کلو…