الزام سے بچنے کے لئے جھوٹی قسم کھانا

Reviewed Updated September 29, 2025 56

سوال

اگر کسی شخص پر کوئی الزام ہو اور وہ اس الزام کی تردید کرنے کے لیے جھوٹی قسم کھانے کا سوچے، تاکہ اس کی عزت بچ جائے، تو کیا اس کے لیے جھوٹی قسم کھانے کی گنجائش ہے؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی گزشتہ  زمانہ میں کسی بات پر باخبر ہونے کے باوجود قصدا جھوٹی قسم کھائے تو اسے شریعت کی اصطلاح میں یمین غموس کہتے ہے ،اس میں اگر چہ اس شخص پر کوئی کفارہ نہیں آتا لیکن قصدا جھوٹ بولنے کی وجہ سے سخت گنہگار ہوگا  ، کیونکہ رسول اللہ نے جھوٹی قسم  کو کبیرہ گناہوں میں سے قرار دیا  ہے اور جھوٹ بولنےکو منافق کی نشانی شمار کیا ہے ۔ صورت مسئولہ کے مطابق حتی الوسع کوشش کرکے خود کو جھوٹ اور دھوکہ دہی سے بچائے،اگر مجبوری ہو، تو ایسا طریقہ اختیار کرے کہ جھوٹ بولنے سے بھی بچے  اور قسم کھانے کی ضرورت بھی نہ پڑے، تاہم اگر پھر بھی کسی نے جھوٹی قسم کھائی تو اس صورت میں سخت گنہگار ہوگا   اور اس پر سچے دل سے  اللہ کی بارگاہ میں توبہ واستغفار کرنا  ضروری ہوگا۔   عن عبد الله بن عمرو، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: الكبائر: ‌الإشراك ‌بالله، وعقوق الوالدين، وقتل النفس، واليمين الغموس.(صحيح البخاری، كتاب الأيمان والنذور،باب اليمين الغموس، ج:6،ص:2457، رقم الحديث:6297) ‌اليمين ‌الغموس هي: الحلف على أمر ماض، يتعمد الكذب فيه؛ فهذه اليمين يأثم بها صاحبها، ولا كفارة فيها إلا الاستغفار۔(النهاية في شرح الهداية  كتاب الأيمان،ج: 10، ص:93) فتویٰ نمبر : 10729/297/321 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2025-08-27 کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام)

Share: WhatsApp Facebook Telegram X Copy