واضح رہے کہ گھر، زمین وغیرہ جب تجارت کے لیے ہوں تو اس میں زکوۃ واجب ہوتی ہے، اور کسی چیز میں تجارت کی نیت اس کے خریدنے کے وقت معتبر ہوتی ہے، اس لیے اگرکسی چیز کے خریدنے کے وقت تجارت کی نیت نہ ہو، بلکہ بعد میں تجارت کی نیت کی جائے،تو وہ بیچنے سے پہلے مال تجارت شمار نہیں ہوگی لہذا اس میں زکوۃ واجب نہ ہوگی۔ صورت مسئولہ کے مطابق جب گھر خریدتے وقت تجارت کی نیت نہیں کی گئی تھی ،تو اس گھر کی قیمت میں زکوۃ واجب نہ ہوگی ۔ (وشرطه) أي شرط افتراض أدائها (أو نية التجارة) في العروض، إما صريحا ولا بد من مقارنتها لعقد التجارة كما سيجيء، أو دلالة بأن يشتري عينا بعرض التجارة أو يؤاجر داره التي للتجارة بعرض فتصير للتجارة بلا نية صريحا...(إلا أن تكون للتجارة) والأصل أن ما عدا الحجرين والسوائم إنما يزكى بنية التجارة بشرط عدم المانع المؤدي إلى الثنى وشرط مقارنتها لعقد التجارة... ولو نوى التجارة بعد العقد أو اشترى شيئا للقنية ناويا أنه إن وجد ربحا باعه لا زكاة عليه (رد المحتار علی الدرالمختار، کتاب الزکوۃ، ج:3، ص:195) وأما فيما سوى الأثمان من العروض فإنما يكون الإعداد فيها للتجارة بالنية؛ لأنها كما تصلح للتجارة تصلح للانتفاع بأعيانها بل المقصود الأصلي منها ذلك فلا بد من التعيين للتجارة وذلك بالنية... ولو اشترى عروضا للبذلة والمهنة ثم نوى أن تكون للتجارة بعد ذلك لا تصير للتجارة ما لم يبعها فيكون بدلها للتجارة. (بدائع الصنائع، کتاب الزکوۃ، ج:2، ص:397) فتویٰ نمبر : 10968/297/321 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2026-05-24 کتاب الزکوٰۃ شرائطِ زکوٰۃ
گھر خريدنے كے بعد تجارت كی نیت کرنے سے زکوۃ کا وجوب
سوال
ہم پانچ بہن بھائیوں نے ایک مشترکہ زمین بیچی جو وراثت میں تھی، اس کے بعد ایک عدد مکان خریدا، ہماری نیت تھی کہ اس مکان کو اپنی رہائش کے لیے استعمال کریں گے یا اس مکان کو کرایہ پر دے کر اس کے کرائے سے اپنے لیے کرائے کا مکان لیں گے ،کیونکہ اس کے علاوہ ہمارے پاس ذاتی مکان نہیں تھا، اس میں چونکہ زیادہ حصہ میرا تھا اور ہم نے یہ سوچا کہ جب اس مکان کی مناسب قیمتِ فروخت لگےگی تو ہم اسے بیچ کر اپنے لیے ایک اور گھر خرید لیں گے تاکہ ہمارے پیسے ضائع نہ ہوں۔ اس سلسلے میں میری اور میرے حصہ داروں کی دورائے بن گئیں ایک نے یہ کہا کہ چونکہ مکان کا کرایہ طے ہوا ہے اور ہم نے اس کو کچھ عرصہ رکھ کربیچنے کی نیت کی ہے اس لیے یہ مالِ تجارت ہے اور اس کی وجہ سے ہم سب پر اپنے حصے کے مطابق زکوٰة فرض ہے۔ جبکہ میرے لیے یہ ایک پریشانی کا سبب بن رہا ہے کیونکہ اس کے علاوہ نہ تو میرے پاس نقدی ہے اور نہ ہی زیورات ہیں اور نہ کوئی اور تجارتی اثاثے ہیں لہٰذا آپ سے گزارش ہے کہ یہ بتائیں کہ کیا صرف اس کی وجہ سے ہم پر زکوۃ واجب ہوگی یا نہیں؟
جواب
Related Fatwas
مطلق عقد مضاربت میں مضارب کا کسی کو وکیل بنانا
ایک شخص نے دوسرے شخص کو بطورِ مضاربت مال دیا، مگرعقد کے وقت کسی مخصوص کام کی صراحت نہ کی، تو کیا…
بطور امانت لیا ہوا سامان واپس نہ کرنا
ایک خاتون کو نکاح کے موقعہ پر بہت سارا سامان، سونا اور دیگر اشیاء کی صورت میں بطور جہیز ان کے بھائی…
لے پالک لڑکی کی نسبت اپنی طرف کرنا
میں نے ایک بچی کو گود لیا تھااور تمام سرکاری کاغذات کے اندراس کواپنی طرف منسوب کیا ہوا ہے، اب مسئلہ معلوم…
ایک قطرہ منی کےنکلنےسےغسل کاحکم
اگرخواب دیکھتےہوئےکسی کواحتلام ہونےوالاہولیکن وہ اپنےآپ کو کنٹرول کردےتاکہ منی باہرنہ نکلےاوربیدارہوجائےلیکن بیداری میں ایک قطرہ منی نکلےتوکیاغسل واجب ہوگايانہيں؟
نمازیوں کے آگےپردہ ہونے کی صورت میں سترے کا حکم
مسجد کے درمیان چھت سے پردہ لٹکا ہوا ہے اس پردے سے آگے جماعت کے ساتھ نماز پڑھی جاتی ہے جبکہ پیچھے…
ایسی کمپنی کے شیئرز خریدنا جس کا ایک حصہ آمدنی سود کا ہو
ایک شخص نے ایسی کمپنی کے شیئرز خریدے جو حلال چیزیں ( ادویات) بناتی ہے، مگر اس کی آمدنی کا ایک حصہ…