ایک ہی گاؤں میں متعدد مقامات میں جمعہ کی نماز پڑھنا

Reviewed Updated October 7, 2025 20

Question

ہمارا گاؤں نگری پائیں تالاش دیر پائیں 4000 نفوس پر مشتمل ہے ،علاقے میں جنرل سٹور ،میڈیکل سٹور وغیرہ بنیادی ضروریات کی دکانیں  موجود ہیں، دو پرائمری اسکول بھی ہیں ،علاوہ ازیں 13 مساجد ہیں،سب میں نماز جمعہ ادا کی جاتی ہے،اس گاؤں میں  ہمارا محلہ 34 گھرانوں پر مشتمل ہےجو کہ علاقہ میں  سب سے بڑا محلہ ہے،جس میں  ایک مسجد 30 سال سے قائم ہے، ہم وہاں جمعہ شروع کرنا چاہتے ہیں ، تو کیاوہاں نماز جمعہ شروع کرنا جائز ہے یا نہیں؟ محلہ کے نزدیک دوسری مسجد بھی ہے جس میں جمعہ ادا کیا جاتا ہے۔

Answer

فقہ حنفی کی رو سےجمعہ کےلیے ضروری ہے کہ شہر،قصبہ یا بڑا گاؤں ہو،بڑے گاؤں (قریہ کبیرہ) کی علامات مختلف زمانوں میں فقہاے کرام نے اپنے عرف کے مطابق بیان کی ہیں۔موجودہ دو رمیں دو،ڈھائی ہزار افراد کی آبادی پر مشتمل گاؤں جس میں ضروریات زندگی میسر ہوں،اس  کو بڑے گاؤں کی حیثیت حاصل ہے،نیز جہاں جمعہ جائز ہو وہاں  متعدد مقامات پر جمعہ کی جماعت پڑھی جاسکتی ہے۔ صورت مسئولہ کے مطابق اگر واقعتاگاؤں  نگری پائیں تالاش (دیر پائیں)  کی آبادی 4000 نفوس پر مشتمل ہواورضروریات زندگی بھی میسر ہوں، توفقہاے کرام کی تصریحات کے مطابق اس کو  بڑے گاؤں کی حیثیت حاصل ہے، لہذا اس  گاؤں کی تمام مساجد میں  جمعہ کی نماز جائز ہے۔ سوال میں مذکور جس مسجد میں اب تک جمعہ نہیں پڑھا جارہا اس میں بھی جمعہ شروع کیا جاسکتا ہے۔   یشرط أدائها المصر وهو كل موضع له أمير وقاض ينفذ الأحكام ويقيم الحدود أو مصلاه...والسلطان أو نائبه ووقت الظهر فتبطل بخروجه والخطبة قبلها... والجماعة وهم ثلاثة سوى الإمام... والإذن العام.(كنز الدقائق، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجمعۃ، ص: 189) وتؤدى الجمعة في مصر واحد في مواضع كثيرة وهو قول أبي حنيفة ومحمد -رحمهما الله تعالى- وهو الأصح وذكر الإمام السرخسي أنه الصحيح من مذهب أبي حنيفة -رحمه الله تعالى- وبه نأخذ، هكذا في البحر الرائق. ( الفتاوى الهندية، کتاب الصلاة، الباب السادس عشر في صلاة الجمعة، ج: 1، ص: 145) فتویٰ نمبر : 10743/297/321 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2025-10-07 کتاب الصلوۃ نمازِجمعہ

Share: WhatsApp Facebook Telegram X Copy