رضاعی بہن کی نسبی بہن سے نکاح کرنا

Reviewed Updated September 27, 2025 60

سوال

ٓشاندانہ، اقراءکی رضاعی ماں ہے اب شاندانہ اپنے حقیقی بیٹے گلفام کا نکاح اقراء کی چھوٹی اورحقیقی بہن صدف سے کرنا چاہتی ہے،تو شریعت کی رو سے یہ جائز ہے یا نہیں؟

جواب

شریعت مطہرہ کی رو سے دودھ پینے والے بچے کے لیے دودھ پلانے والی عورت اوراس کے اصول و فروع سے نکاح جائزنہیں، لیکن یہ حرمت صرف اس دودھ پینے والے بچے کے ساتھ خاص ہوتی ہے، اس کے بہن بھائیوں کی طرف متعدی نہیں ہوتی۔ صورت مسؤلہ کے مطابق جب اقراء نے شاندانہ بی بی کا دودھ پیا ہے،تواس پر شاندانہ بی بی کےاصول و فروع سب حرام ہیں، البتہ اس کی بہن صدف پرحرام نہیں، اس لیے صدف  کا نکاح شاندانہ بی بی کی بیٹے گلفام کے ساتھ  جائزہے، اس شرط کے ساتھ کے حرمت کی کوئی اوروجہ موجود نہ ہو ۔   عن عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم: أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: يحرم من الرضاعة ما يحرم من الولادة. (سنن أبي داؤد، كتاب النكاح، باب ما يحرم من الرضاعة ما يحرم من النسب، رقم الحديث:2055، ج:2، ص:177) وكذالك يتزوج أخت أخته من الرضاع،ومثله من النسب يحل لأنه لا نسب بينهما  موجب للحرمة،فكذالك في الرضاع. (المبسوط للسرخسي، باب الرضاع، ج:5، ص:137)  ولو ‌أرضعت ‌أمه جارية لها إخوة وأخوات كان له أن يتزوج أخوات تلك الجارية؛ لأن التي أرضعتها الأم أخته من الرضاعة، ولا سبب بينه وبين أخواتها. (المبسوط للسرخسى، كتاب الرضاع، باب تفسير لبن الفحل، ج:3، ص:301)

Share: WhatsApp Facebook Telegram X Copy