میــــــــــــــ(45)ــــــــــــ(بیوی)ــــــــــــــــــت شوہر باپ ماں بیٹی بیٹی بیٹی 9 6 6 8 8 8 بشرط صدق و ثبوت اگر مرحومہ کے مذکورہ ورثاء کے علاوہ اور کوئی قریبی وارث زندہ موجود نہ ہوں تو بعد ازادائے حقوق متقدمہ علی الارث مرحومہ کا بقیہ ترکہ پینتالیس(54) حصوں میں تقسیم ہو کر شوہرکو نو(9) حصے، ماں اور باپ میں سے ہر ایک کو چھ (6)حصے، اور تین بیٹیوں میں سے ہر ایک کو آٹھ (8) حصے ملیں گے۔ 2۔ واضح رہے کہ نکاح منعقد ہونے پر شوہر کے ذمے بیوی کے جو حقوق واجب ہوتے ہیں، ان میں سے نان نفقہ بھی شامل ہے جوعدم ادائیگی کی صورت میں اس وقت دین بنتا ہے جب عدالت نے شوہر کے ذمے اس کی مقدار متعین کی ہو یا میاں بیوی کے مابین کسی مقدار پر اتفاق ہوا ہو۔ صورت مسئولہ میں اگر شوہر نے بیوی کا نان ونفقہ ادا نہ کیا ہو اوراس کے ذمے اس کی مقدار متعین کی گئی تهى یا میاں بیوی کے مابین کسی مقدار پر اتفاق ہوا تها، تو جتنے عرصے کا اسے نفقہ نہیں دیاگیا تها، وه شوہر کے ذمے دین رہے گا۔ چنانچہ موت کی صورت میں اس کے ترکے کا حصہ بنے گا، اورجہاں تک اولاد کے خرچے کا مسئلہ ہے تو وہ والد کے ذمے دین نہیں بنتا چاہے قاضی نے فیصلہ بھی کیا ہو۔ اور عدالت کی طرف سے عائد کردہ جرمانہ اور باہمی معاہدے کے تحت طے شدہ ہرجانہ جو(فیملی کورٹ کے تصفیہ میں طے ہوا ہو) وہ تعزیر بالمال کے حکم میں ہو کر مرحومہ کے ترکہ کا حصہ شمار ہو کر یتیم بچوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ قال اللہ تعالیٰ:﴿فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ ﴾ [النساء: 11] وقال تعالیٰ﴿وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَدٌ … فَإِنْ كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ﴾ [النساء:11] وقال تعالیٰ﴿فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ ﴾ [النساء: 12] وإذا مضت مدة لم ينفق الزوج عليها وطالبته بذلك فلا شيء لها إلا أن يكون القاضي فرض لها النفقة أو صالحت الزوج على مقدار نفقتها فيقضي لها بنفقة ما مضى. (الهداية ،كتاب الطلاق، باب النفقة، ج:2، ص:287) يجوز التعزير بأخذ المال وهو مذهب أبي يوسف وبه قال مالك، ومن قال: إن العقوبة المالية منسوخة فقد غلط على مذاهب الأئمة نقلا واستدلالا. (معين الحكام، فصل التعزيرلا يختص بفعل معين، ص:195) وإذا قضى القاضي للولد والوالدين وذوي الأرحام بالنفقة فمضت مدة سقطت " لأن نفقة هؤلاء تجب كفاية للحاجة حتى لا تجب مع اليسار وقد حصلت بمضي المدة بخلاف نفقة الزوجة إذا قضى بها القاضي لأنها تجب مع يسارها فلا تسقط بحصول الاستغناء فيما مضى. قال: " إلا أن يأذن القاضي بالاستدانة عليه " لأن القاضي له ولاية عامة فصار إذنه كأمر الغائب فيصير دينا في ذمته فلا تسقط بمضي المدة. (الهداية ،كتاب الطلاق، باب النفقة،ج:2، ص:287) فتویٰ نمبر : 3817/297/323 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2026-05-10 کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) ذوی الفروض و العصبات
شوہر،ماں،باپ، اور تین بیٹیوں كے درميان تقسیم میراث
سوال
1۔اگر ایک عورت وفات پا جائے اور وہ اپنے پیچھے شوہر، حقیقی ماں، باپ اور تین بیٹیاں چھوڑ جائے، تو اس کے ترکہ کی شرعی تقسیم کیسے ہوگی؟ 2۔بیوی اور بچوں کا نان و نفقہ جو شوہر نے ادا نہ کیا ہو، کیا وہ شوہر کے ذمے قرض شمار ہوگا،اس طرح اگر مرحومہ کے لیے شوہر پر عدالت کی طرف سے عائد کردہ جرمانہ اور باہمی معاہدے کے تحت طے شدہ ہرجانہ، کیا مرحومہ کے ترکہ میں شامل ہو کر یتیم بچوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے؟
جواب
Related Fatwas
جنوبی وزیرستان علاقہ مانتوئی میں نماز جمعہ پڑھنا
ضلع جنوبی وزیر ستان تحصیل شکئی علاقہ مانتوئی میں قدیم زمانے سے جامع مسجد بنام(جامع مسجد درس) موجود ہے، جس میں قدیم…
یو، دوا، درے، بولنے سے طلاق کاحکم
ایک دن گھریلو ناچاقی پر غصہ کی حالت میں، میں نے بیوی سے کہا "یو، دوا، درے نکل جاؤ میرے گھر سے"۔…
پلازہ بننے سے پہلے اس میں دفتر خریدنا
میں نے پشاور میں ایک کمپنی کے ساتھ انوسمنٹ کرنی ہے جس کی تفصیل یہ ہے کہ یہ کمپنی مختلف جگہوں پر…
ٹی شرٹ پہن کر نماز پڑھنا
ٹی شرٹ پہن کر نماز پڑھنا کیسا ہے؟ اگر مکروہ ہے تو اس پر سوال ہے کہ بہت سے صحابہ ایک چادر…
والدین کے لیے مقرر کردہ نفقہ میں کوتاہی کی تلافی کرنا
ایک شخص نے اپنے باپ کے سامنے سٹامپ پیپر پرلکھا کہ میں ماہانہ اپنے والدین کو اتنا اتنا خرچہ دوں گا، ساتھ…
نقد کی نسبت زیادہ قیمت پر سونا ادھار بیچنا
زید نقد سونا خرید کربکر پرایک ہفتے کے ادھارپر فروخت کردیتا ہے، فریقین میں طے پاتا ہے کہ زید نے جس ریٹ…