نکاح کے بعد رخصتی سے پہلے طلاق دے کر پھر نکاح کرنا

Reviewed Updated October 7, 2025 62

Question

 میرا نکاح ہوا اور بغیر رخصتی کے اور بغیر اُس سے ملے  میں نے اپنی منکوحہ کو تین طلاقیں متفرق طور پر دے دیں، اب دوبارہ نکاح کرنا چاہتا ہوں لیکن میں چاہتا ہوں کہ کسی کو پتا نہ چلے کہ میں تجدید نکاح کر رہا ہوں اس لیے میں چاہتا ہوں کہ ابھی رخصتی ہوجائے اور بعد میں تجدید نکاح کرلوں گا،تو کیا میں شبِ زفاف میں ہمبستری کر سکتا ہوں ؟ نیز کیا تجدید نکاح میں کوئی فرق بھی ہوتا ہے یا یہ عام نکاح جیسا ہی ہوتا ہے؟

Answer

واضح رہے کہ اگر کسی نے اپنی بیوی کورخصتی اورخلوت صحیحہ  سے پہلے متفرق طور پر تین طلاقیں دے دیں تو ایک طلاق سے وہ بائنہ ہو جائیگی اور باقی دو طلاقوں کے لئے محل باقی نہ رہنے کی وجہ سے وہ لغو ہو جائیں گی، اس کے بعد دونوں باہم رضا مندی سے نیا نکاح کرسکتے ہیں ،البتہ آئیندہ اس کو دو طلاقوں کا حق حا صل ہوگا ۔ صورت مسؤلہ کے مطابق غیر مدخول بہا بیوی کو رخصتی سے پہلے  طلاق دینے کے بعد تجدید نکاح کرسکتے ہیں ،البتہ تجدید نکاح کئے بغیر اس سے ہمبستری کرنا ناجائزاورحرام ہے، اور  تجدید نکاح کے بعد  شوہر کے ساتھ صرف دو طلاقوں کا اختیار باقی رہے گا،نیز تجدید نکاح عام نکاح جیسا ہی ہوتاہے۔   (وإن فرق بانت بالأولی)لاإلی عدة(و)لذا(لم تقع الثانية)بخلاف الموطوءة حيث يقع الكل.(ردالمحتار علی الدرالمختار،باب طلاق غير المدخول بها،ج:4،ص:512) فتویٰ نمبر : 7277/297/324 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2025-10-07 کتاب الطلاق طلاق صریحی

Share: WhatsApp Facebook Telegram X Copy