شوہر کا خلع کے مطالبے کو حقوق واجبہ کی ادائیگی کے بعدقبول کرنے کا وعدہ کرنا

Reviewed Updated December 25, 2025 21

Question

خلع نامہ میں عورت نے لکھا کہ:’’میں اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر یہ عرض کرتی ہوں کہ میں آپ کے ساتھ ازدواجی زندگی مزید نبھانے سے قاصر ہوں۔ میرے دل میں اب وہ موافقت، محبت اور سکون باقی نہیں رہا جو ایک پائیدار نکاح کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ میری طرف سے کوئی الزام نہیں، مگر میرے لیے اس رشتے کو برقرار رکھنا اب دینی و ذہنی طور پر دشوار ہو گیا ہے۔ لہٰذا میں آپ سے مؤدبانہ درخواست کرتی ہوں کہ آپ مجھے مہر اور تحفتاً دیے گئے زیورات کے مقابلے میں خلع دے کر عزت و احترام کے ساتھ جدا ہونے کا موقع دیں‘‘۔اس کے جواب میں شوہرنے لکھا کہ:’’میں فلاں، اپنی بیوی فلانہ کے مطالبے کے مطابق خلع بعوض ان تمام حقوقِ واجبہ کے جو نکاح کی وجہ سے مجھ  پر واجب ہوئے تھے، بخوشی بعد از ادا خلع پر راضی ہوں گا۔‘‘اس کے بعد عورت نے مہر واپس کیا ہے لیکن تحفتاً دیے گئے زیورات واپس نہیں کیے، تو کیا شوہرکے بیان کے مطابق خلع ہو چکا ہے یا ابھی بھی خلع دینا باقی ہے؟

Answer

عورت کی جانب سے مال کے عوض اگر خلع کا مطالبہ کیا جائے اور شوہر اس کو قبول کرے تو اس سے خلع تام ہو جائے گا، لیکن اگر شوہر مستقبل کے صیغے کے ساتھ جواب دے، مثلاً ’’میں راضی ہوں گا‘‘ یا ’’میں قبول کروں گا‘‘، تو یہ خلع قبول کرنے کا وعدہ کہلائے گا۔ نیز نکاح کی وجہ سے جو حقوق واجب ہوتے ہیں، ان میں تحفتاً زیورات  شامل نہیں۔ صورتِ مسئولہ کے مطابق عورت نے شوہر سے مہر اور تحفتاً دیے گئے زیورات کے عوض خلع دینے کا مطالبہ کیا ہے، تو شوہر نے جواب میں لکھا کہ:’’میں فلاں، اپنی بیوی فلانہ کے مطالبے کے مطابق خلع بعوض ان تمام حقوقِ واجبہ کے جو نکاح کی وجہ سے مجھ  پر واجب ہوئے تھے، بخوشی بعد از ادا خلع پر راضی ہوں گا‘‘یہ الفاظ در حقیقت  حقوقِ واجبہ کی ادائیگی کے بعد خلع قبول کرنے کا وعدہ ہے۔لہذا محض عورت کی جانب سے مہر واپس کرنے سے خلع مکمل نہیں ہوا، بلکہ خلع مکمل ہونے کے لیے شوہر کی طرف سے باقاعدہ قبول کرنا ضروری ہے۔   وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول... ثم الخلع ينعقد بلفظين يعبر بهما عن الماضي... وجه الثاني أن الخلع متى وقع على بدل - هو مال - يتعلق وقوع الطلاق بقبول يجب به المال.(بدائع الصنائع، كتاب الطلاق،ج:3،ص:145،147) ثم إن الزوج اختص بأنواع من ‌حقوق ‌الزوجة، وهي التزام المهر والنفقة، والذب عنها، والقيام بمصالحها، ومنعها عن مواقع الآفات.(التفسير الكبير، سورة البقرة،ج:6،ص:433) فتویٰ نمبر : 7353/297/324 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2025-12-25 خلع خلع کے مسائل

Share: WhatsApp Facebook Telegram X Copy