واضح رہے کہ نماز میں اقتداء کی صحت کےلیے اصل شرط امام اورمقتدی کے درمیان حقیقی یا حکمی اتحادِ مکان کا پایا جانا ہے۔ لہٰذا اگرامام اورمقتدی کے درمیان ایسا فاصلہ یا حائل ہو جوعام طور پرمکان کے اختلاف کا باعث بنے اور جس سے امام کے احوال معلوم کرنے میں اشتباہ پیدا ہو جائے تواس صورت میں اقتداء صحیح نہیں ہے۔ تاہم اگر صفیں متصل ہوں تو امام کی اقتداء درست ہوگی ۔ صورت مسئولہ کے مطابق جب کسی مسجد میں لوگ زیادہ ہو نے کے باعث بعض لوگ مسجد سے باہر سڑک پر کھڑے ہوں یا اس کے دوسرے جانب کھڑے ہوں تو اگر باہرکی صفوں کا مسجد کی صفوں کے ساتھ اتصال ہو، تو ان کا اس مسجد کے امام کی اقتدا میں نماز پڑھنا درست ہوگا ورنہ اتصال نہ ہونے کی صورت میں اقتدا درست نہیں۔ ويجوز الاقتداء لجار المسجد بإمام المسجد ،وهو في بيته إذا لم يكن بينه وبين المسجد طريق عام ،وإن كان طريقا عاما ولكن سدته الصفوف، جاز الاقتداء لمن في بيته بإمام المسجد۔(الفتاوى التاتارخانية، كتاب الصلوة، بيان ما يمنع صحة الإقتداء ،ج:2، ص:267) ومنها: اتحاد مكان الإمام والمأموم، ولأن الاقتداء يقتضي التبعية في الصلاة، والمكان من لوازم الصلاة فيقتضي التبعية في المكان ضرورة، وعند اختلاف المكان تنعدم التبعية في المكان فتنعدم التبعية في الصلاة لانعدام لازمها؛ ولأن اختلاف المكان يوجب خفاء حال الإمام على المقتدي فتتعذر عليه المتابعة التي هي معنى الاقتداء، حتى أنه لو كان بينهما طريق عام يمر فيه الناس أو نهر عظيم لا يصح الاقتداء؛ لأن ذلك يوجب اختلاف المكانين عرفا مع اختلافهما حقيقة فيمنع صحة الاقتداء... فإن كانت الصفوف متصلة على الطريق جاز الاقتداء؛ لأن اتصال الصفوف أخرجه من أن يكون ممر الناس فلم يبق طريقا بل صار مصلى في حق هذه الصلاة، وكذلك إن كان على النهر جسر وعليه صف متصل لما قلنا، ولو كان بينهما حائط، ذكر في الأصل أنه يجزئه. (بدائع الصنائع، كتاب الصلاة، فصل شرائط أركان الصلاة، ج:1، ص:628) فتویٰ نمبر : 10872/297/321 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2025-12-31 کتاب الصلوۃ امامت اورجماعت کے مسائل
مسجد سے باہر سڑک پر کھڑے ہوکر امامِ مسجد کی اقتداء میں نماز پڑھنا
سوال
ہم جمعہ کی نماز کے لئے ایک مسجد جاتے ہیں، جہاں لوگوں کا بہت ہجوم ہوتا ہے، مسجد کے باہر راستوں میں لوگ کھڑے ہوتے ہیں، اور مسجد کے مین گیٹ کےسامنے سڑک ہےجس پرعام طور سے گاڑیاں بھی گزرتی ہیں، لیکن جمعہ کی دن اس جگہ پربھی لوگ کھڑے ہوتےہیں اورنمازکے وقت وہ گاڑیاں بند ہوتی ہیں، اب کیا اس سڑک پر یا اس کے دوسرے جانب کھڑے ہوکرنمازپڑھنے والوں کی نمازاس مسجد کےامام کے ساتھ پڑھنا درست ہے یا نہیں؟
جواب
Related Fatwas
الکحل (Alcohal)ملے اسپرے کا استعمال
اگر کسی پرفیوم یا اسپرے میں الکحل استعمال کی گئی ہو، تو کیا اس کا استعمال شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ براہِ…
والدین کااپنی زندگی میں جائیداد تقسیم کرنا
والدین اپنی زندگی میں اپنی جائیداد اولاد میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ اولاد میں چار بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں، جبکہ کل…
ہوٹل والوں کی طرف سے ملنے والی اشیاء کا حکم
ہم کھانا کھانے کے لیے ایک ہوٹل گئے۔ وہاں ہمیں انتظامیہ کی جانب سے ٹشو اور خلال (دانت کھودنے والی تیلی) فراہم…
جنوبی وزیرستان علاقہ مانتوئی میں نماز جمعہ پڑھنا
ضلع جنوبی وزیر ستان تحصیل شکئی علاقہ مانتوئی میں قدیم زمانے سے جامع مسجد بنام(جامع مسجد درس) موجود ہے، جس میں قدیم…
عمرہ میں بغیرحلق یاقصر کےاحرام کھولنا
ایک آدمی نے عمرہ میں بغیرحلق یا قصر احرام کھولی۔ پھرسلےہوئے کپڑے پہنے پھر ایک دن کے بعد دوبارہ احرام باندھ کر…
سونے کے زیورات آڈر پر بنانا اور قیمت ایڈوانس لینا
گاہک میرے پاس ایک تولہ سونا بنوانے آیا ، گاہک نے موجودہ ریٹ کے مطابق پیسے دے دیے، مثلاً 285000 ریٹ ہے،…