واضح رہے کہ اگر میاں بیوی کے درمیان ناچاقی کی صورت ہوجس کی وجہ سے وقت گزارنا مشکل ہواور بیوی شوہر سے خلع لینے کا مطالبہ کرے تو ایسی صورت میں شوہر اپنی بیوی کو خلع دے سکتا ہے،اور بیوی کی طرف سے نافرمانی کی صورت میں شوہر کے لیے جس طرح بغیر عوض کے خلع دیناجائز ہے اسی طرح عوض کے ساتھ دینا بھی جائز ہے، لیکن اگر نافرمانی شوہر کی طرف سے ہو تو بدلِ خلع کے طور پر شوہر کے لیے دیانۃً کچھ بھی لینا جائز نہیں، نیز یہ کہ کل مہر یا بعض مہر کو بدلِ خلع مقرر کیا جاسکتا ہے۔اور میاں بیوی کے درمیان جدائی کے بعد لڑکی نوسال تک ماں کی پرورش میں رہے گی ، بعد میں شوہر کے حوالے کی جائے گی۔ صورت مسئولہ کے مطابق سائل نے جب نصف حق مہر کے بدلے اپنی بیوی کو خلع دے دی تو خلع ہوگئی،اورسائل کی بیوی کے ذمہ مذکورہ رقم لازم ہوگئی، سائل اس کا حق دار ہے،اور بچی نو سال تک ماں کی پرورش میں رہے گی، نیز یہ کہ عورت كے جہیز کا سامان چونکہ اس کی ملکیت ہوتی ہے اس لیے اس کو حوالہ کیا جائے گا۔ إن خالعها على مهرها فإن كانت المرأة مدخولا بها وقد قبضت مهرها يرجع الزوج عليها بمهرها... وإن خالعها على عشر مهرها ومهرها ألف درهم فإن كانت المرأة مدخولا بها والمهر مقبوضا رجع الزوج عليها بمائة ويسلم لها الباقي في قولهم جميعا.( الفتاوى الهندية، كتاب الطلاق، الباب الثامن في الخلع، ج:1، ص:548) إن كان النشوز من قبل الزوج فلا يحل له أخذ شيء من العوض على الخلع وهذا حكم الديانة فإن أخذ جاز ذلك في الحكم ولزم حتى لا تملك استرداده كذا في البدائع...وإن كان النشوز من قبلها كرهنا له أن يأخذ أكثر مما أعطاها من المهر ولكن مع هذا يجوز أخذ الزيادة في القضاء كذا في غاية البيان.(الفتاوى الهندية، كتاب الطلاق، الباب الثامن في الخلع ،ج:1، ص: 548) (والحاضنة) أما، أو غيرها (أحق به) أي بالغلام حتى يستغني عن النساء وقدر بسبع وبه يفتى لأنه الغالب. ولو اختلفا في سنه، فإن أكل وشرب ولبس واستنجى وحده دفع إليه ولو جبرا وإلا لا (والأم والجدة) لأم، أو لأب (أحق بها) بالصغيرة (حتى تحيض) أي تبلغ في ظاهر الرواية...(وغيرهما أحق بها حتى تشتهى) وقدر بتسع وبه يفتی (وعن محمد أن الحكم في الأم والجدة كذلك) وبه يفتى لكثرة الفساد زيلعي. (رد المحتار علی الدرالمختار، باب الخضانة، ج:5، ص:268) لو جهز ابنته وسلمه إليها ليس له في الاستحسان استرداد منها وعليه الفتوى . ( الفتاوی الهندية، كتاب النكاح، ج:1، ص:393) فتویٰ نمبر : 7419/297/324 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2026-05-24 خلع خلع کے مسائل
نصف حق مہر کے بدلے خلع دینا
سوال
کچھ ناخوشگوار وجوہات کی بنا پر میرے تعلقات اہلیہ کے ساتھ خراب ہوگئے اور وہ گھر چھوڑ کر چلی گئی میری ایک بیٹی جس کی عمر ابھی تقریبا چار سال ہےوہ بھی اسکے ساتھ ہے کئی مرتبہ مختلف طریقوں سے خلع کاپیغام بھیجا اور پھرثالثوں نے فیصلہ کیا۔ کہ آپ خلع دےدیں آپ کو حق مہر مقبوضہ 1050000دس لاکھ پچاس ہزار روپے پاکستانی کانصف ملےگا اور نصف نہیں ملے گا، البتہ آپ کی بیٹی آپ کے حوالہ کریں گے اور اہلیہ کا جوسامان ہے وہ بھی میں نے اسے سارا حوالہ کرناہے۔ اب خلع دینے کے بعد عورت مکرگئی اور اس فیصلے پر عمل نہیں کررہی برائے مہربانی ازروئے شریعت رہنمائی فرمائے کہ کیا خلع ہوگئی؟ اور میں خلع کی رقم لینے کا حقدار ہوں؟ اس بچی اور سامان کے حوالے سے کیا حکم ہے؟
جواب
Related Fatwas
نذر کا کھانا خود کھانا
اگر کسی نے نذر کا کھانا خودکھایا تو اس کا کیا حکم ہے؟
میراث کی تقسیم اور اس سے دستبرداری کا حکم
1۔ ایک شخص کا انتقال ہوا۔ اس کے ورثاء میں ایک بیوہ، دو بیٹے اور تین بیٹیاں شامل ہیں۔ مرحوم کا ترکہ…
ISLAMICLY WEBSITEپر کاروبار کرنا
ISLAMICLY WEBSITE کیPLAT FORM پر digital gold خریدنا اور فروخت کرنا کیسا ہے؟
اجرت متعین نہ ہونے کی صورت میں اجارہ کا حکم
ایک شخص نے اپنی کار موٹر شوروم والے کے حوالہ کیا کہ اسے پانچ ہزار ڈالر میں فروخت کردو، اس سے زیادہ…
مسبوق کا امام کے ساتھ بھول کر سلام پھیرنا
میں دو رکعات کے بعد امام کے ساتھ نماز میں شریک ہوا لیکن امام کے سلام پھیرتے وقت میں نے بھی بھول…
احکام اسلام کی اپنی طرف سے تشریح و تأویل کرنے والے شخص کا حکم
1)اگر کسی شخص کا یہ عقیدہ ہو کہ جس نماز کا قرآن میں ذکر آیا ہے ،وہ یہ نہیں ہے جو لوگ…