والدین کے لیے مقرر کردہ نفقہ میں کوتاہی کی تلافی کرنا

Reviewed Updated November 26, 2025 22

Question

ایک شخص نے اپنے باپ کے سامنے سٹامپ پیپر پرلکھا کہ میں ماہانہ اپنے والدین کو اتنا اتنا خرچہ دوں گا، ساتھ اور بھی ذمہ داریاں اپنے ذمے لی۔ بعد میں اس شخص نے نہ وہ ذمہ داریاں نبھائی اور نہ والدین کے لئے مقرر کردہ خرچہ ادا کیا بلکہ وہ خرچہ اس کے ذمہ بہت زیادہ بڑھ گیا جس کی ادائیگی سے اب وہ قاصر ہے۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا اس شخص پر اب بھی والدین کا وہ پرانا خرچہ لازم ہے یا اب ازسرنو اپنی استطاعت کے مطابق والدین کو دینے کا پابند ہوگا۔نیزاس کی بھی وضاحت کریں  کہ آیا والدین کے لئے مقرر کردہ خرچہ بیٹے کے ذمہ قرض ہوتا ہے یا اسکی کوئی دوسری شرعی حیثیت ہے؟

Answer

جاننا چاہیے کہ اگراولاد میں سے کوئی شخص اپنے والدین کے نفقہ کی ادائیگی یا دیگر ذمہ داریوں کے متعلق کوئی وعدہ کرے،تو شرعاً محض وعدہ کرنے سے وہ چیز لازم نہیں ہوتی،البتہ وعدہ خلافی کرنا گناہ ہے اوردیانتاً قابلِ مؤاخذہ ہے۔ صورتِ مسئولہ میں جب اس شخص نے اپنے والدین کے سامنے اسٹامپ پیپر پریہ لکھا کہ وہ ماہانہ اتنی رقم بطور خرچ ادا کرے گا لیکن بعد میں نہ خرچ ادا کیا اور نہ دیگر ذمہ داریاں نبھائیں تووہ وعدہ خلافی کا گناہگار توہوگامگر چونکہ شرعاً محض وعدہ سے کوئی  مال  لازم نہیں ہوتا،لہٰذا وہ سابقہ رقم اس کے ذمہ بطور قرض نہ ہوگا۔البتہ نادار والدین کا نفقہ اپنی استطاعت کے مطابق بیٹے پر واجب ہےاس لیے آئندہ اسے چاہیے کہ اپنی قدرت ووسعت کے مطابق والدین کے نفقہ میں کوتاہی نہ کرے۔   بخلاف نفقة الأقارب إذا مضت المدة ولم تؤخذ أنها تسقط؛ لأنها لا تصير دينا رأسا؛ لأن وجوبها للكفاية وقد حصلت الكفاية فيما مضى فلا يبقى الواجب كما لو استغنى بماله.(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع،ج:4،ص:29) وعلى الرجل أن ينفق على أبويه وأجداده وجدته إذا كانوا فقراء وإن خالفوه في دينه. (الهداية في شرح بداية المبتدي،ج:2،ص:292) ولو لم يقر بالاستحقاق ولكن وعد له دفع الثمن لا يجبر عليه فمجرد ‌الوعد ‌لا ‌يلزم شيئا،(المحيط البرهاني في فقه النعماني،ج:9،ص:62) فتویٰ نمبر : 7309/297/324 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2025-11-26 نفقات

Share: WhatsApp Facebook Telegram X Copy