ایک وطنِ اصلی چھوڑ کر دوسرا وطنِ اصلی بنانا

Reviewed Updated October 2, 2025 23

Question

ایک شخص نے اپنا وطن اصلی چھوڑ کر دوسر اوطن اصلی بنایا، مثلا ایک شخص کا مہمند ایجنسی میں اپنا گھر ہے اور حالیہ آپریشن کی وجہ سے پشاور ہجرت کی اور یہاں (پشاور) اپنا گھر اور کاروبار بھی ہے اور مہمند ایجنسی میں بھی گھر اور جائیداد بھی ہے، اب اگر اس صورت میں اس کا وہاں (مہمند ایجنسی) دوبارہ جانے اور رہائش اختیار کرنے کا ارادہ ہو تو وہاں جانے سے قصر نماز پڑھے گا یا پوری اور اگر رہائش اختیار کرنے کا ارادہ نہ ہو تو پھر کیا حکم ہے؟

Answer

واضح رہے کہ وطنِ اصلی انسان کا وہ مقام ہوتا ہے، جہاں وہ اپنے اہل وعیال کے ساتھ مستقل طور پر رہ رہا ہو۔ صورت مسئولہ میں دو احتمال ہیں: 1۔ پہلا یہ ہے کہ دونوں جگہ (مہمند ایجنسی اور پشاور) میں اپنا گھر اہل و عیال اور کاروبار ہو اور دوبارہ وہاں (مہمند ایجنسی) جانے اور رہائش اختیار کرنے کا ارادہ ہو، تو اس صورت میں مہمند ایجنسی اور پشاور دونوں وطن اصلی ہو کر دونوں جگہ پوری نماز پڑھے گا۔ 2۔ دوسرا یہ ہے کہ اگر اس کا وہاں ( مہمند ایجنسی ) دوبارہ جانے اور مستقل رہائش اختیار کرنے کا ارادہ نہ ہو، تو اس صورت میں اس کا وطن اصلی (مہمند ایجنسی ) باطل ہو کر پشاور وطن اصلی ہو گیا اب اگر وہاں (مہمند ایجنسی ) جانے اور 15 دن سے کم رہائش اختیار کرنے کا ارادہ ہو تو اس صورت میں قصر کرے گا لیکن اگر 15 دن سے زیادہ رہائش کا ارادہ ہو تو پھر پوری نماز پڑھے گا۔   والأصلي لا ينتقض إلا بالانتقال عنه واستيطان آخر كما قلنا لا بالسفر ولا بوطن الإقامة، ووطن الإقامة ينتقض بالأصلي ووطن الإقامة والسفر۔ (فتح القدير، کتاب الصلاۃ، باب المسافر، ج: 2، ص: 43)  (الوطن الأصلي) هو موطن ولادته أو تأهله أو توطنه(يبطل بمثله) إذا لم يبق له بالأول أهل، فلو بقي لم يبطل بل يتم فيهما (لا غير و) يبطل (وطن الإقامة بمثله و) بالوطن (الأصلي و) بإنشاء (السفر) والأصل أن الشيء يبطل بمثله، وبما فوقه لا بما دونه۔ (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الصلاة، باب صلاة المسافر، ج: 2، ص:132/131( ويبطل الوطن الأصلي بالوطن الأصلي إذا انتقل عن الأول بأهله وأما إذا لم ينتقل بأهله ولكنه استحدث أهلا ببلدة أخرى فلا يبطل وطنه الأول ويتم فيهما ولا يبطل الوطن الأصلي بإنشاء السفر وبوطن الإقامة ووطن الإقامة يبطل بوطن الإقامة وبإنشاء السفر وبالوطن الأصلي۔ (الفتاوى الهندية، كتاب الصلوة، الباب الخامس عشر في صلوة المسافر، ج:1، ص:142) ولا ينتقض الوطن الأصلي بوطن الإقامة ولا بوطن السكنى؛ لأنهما دونه، والشيء لا ينسخ بما هو دونه، وكذا لا ينتقض بنية السفر…. (ووطن) الإقامة ينتقض بالوطن الأصلي؛ لأنه فوقه، وبوطن الإقامة أيضا؛ لأنه مثله، والشيء يجوز أن ينسخ بمثله، وينتقض بالسفر أيضا…. ولا ينتقض وطن الإقامة بوطن السكنى؛ لأنه دونه فلا ينسخه. (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، كتاب الصلوة، فصل في بيان ما يصير المسافر به مقيما، ج:1، ص: 104)  فتویٰ نمبر : 10742/297/321 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2025-10-02 کتاب الصلوۃ مسافرکی نماز

Share: WhatsApp Facebook Telegram X Copy