واضح رہے کہ وطنِ اصلی انسان کا وہ مقام ہوتا ہے، جہاں وہ اپنے اہل وعیال کے ساتھ مستقل طور پر رہ رہا ہو۔ صورت مسئولہ میں دو احتمال ہیں: 1۔ پہلا یہ ہے کہ دونوں جگہ (مہمند ایجنسی اور پشاور) میں اپنا گھر اہل و عیال اور کاروبار ہو اور دوبارہ وہاں (مہمند ایجنسی) جانے اور رہائش اختیار کرنے کا ارادہ ہو، تو اس صورت میں مہمند ایجنسی اور پشاور دونوں وطن اصلی ہو کر دونوں جگہ پوری نماز پڑھے گا۔ 2۔ دوسرا یہ ہے کہ اگر اس کا وہاں ( مہمند ایجنسی ) دوبارہ جانے اور مستقل رہائش اختیار کرنے کا ارادہ نہ ہو، تو اس صورت میں اس کا وطن اصلی (مہمند ایجنسی ) باطل ہو کر پشاور وطن اصلی ہو گیا اب اگر وہاں (مہمند ایجنسی ) جانے اور 15 دن سے کم رہائش اختیار کرنے کا ارادہ ہو تو اس صورت میں قصر کرے گا لیکن اگر 15 دن سے زیادہ رہائش کا ارادہ ہو تو پھر پوری نماز پڑھے گا۔ والأصلي لا ينتقض إلا بالانتقال عنه واستيطان آخر كما قلنا لا بالسفر ولا بوطن الإقامة، ووطن الإقامة ينتقض بالأصلي ووطن الإقامة والسفر۔ (فتح القدير، کتاب الصلاۃ، باب المسافر، ج: 2، ص: 43) (الوطن الأصلي) هو موطن ولادته أو تأهله أو توطنه(يبطل بمثله) إذا لم يبق له بالأول أهل، فلو بقي لم يبطل بل يتم فيهما (لا غير و) يبطل (وطن الإقامة بمثله و) بالوطن (الأصلي و) بإنشاء (السفر) والأصل أن الشيء يبطل بمثله، وبما فوقه لا بما دونه۔ (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الصلاة، باب صلاة المسافر، ج: 2، ص:132/131( ويبطل الوطن الأصلي بالوطن الأصلي إذا انتقل عن الأول بأهله وأما إذا لم ينتقل بأهله ولكنه استحدث أهلا ببلدة أخرى فلا يبطل وطنه الأول ويتم فيهما ولا يبطل الوطن الأصلي بإنشاء السفر وبوطن الإقامة ووطن الإقامة يبطل بوطن الإقامة وبإنشاء السفر وبالوطن الأصلي۔ (الفتاوى الهندية، كتاب الصلوة، الباب الخامس عشر في صلوة المسافر، ج:1، ص:142) ولا ينتقض الوطن الأصلي بوطن الإقامة ولا بوطن السكنى؛ لأنهما دونه، والشيء لا ينسخ بما هو دونه، وكذا لا ينتقض بنية السفر…. (ووطن) الإقامة ينتقض بالوطن الأصلي؛ لأنه فوقه، وبوطن الإقامة أيضا؛ لأنه مثله، والشيء يجوز أن ينسخ بمثله، وينتقض بالسفر أيضا…. ولا ينتقض وطن الإقامة بوطن السكنى؛ لأنه دونه فلا ينسخه. (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، كتاب الصلوة، فصل في بيان ما يصير المسافر به مقيما، ج:1، ص: 104) فتویٰ نمبر : 10742/297/321 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2025-10-02 کتاب الصلوۃ مسافرکی نماز
ایک وطنِ اصلی چھوڑ کر دوسرا وطنِ اصلی بنانا
Question
ایک شخص نے اپنا وطن اصلی چھوڑ کر دوسر اوطن اصلی بنایا، مثلا ایک شخص کا مہمند ایجنسی میں اپنا گھر ہے اور حالیہ آپریشن کی وجہ سے پشاور ہجرت کی اور یہاں (پشاور) اپنا گھر اور کاروبار بھی ہے اور مہمند ایجنسی میں بھی گھر اور جائیداد بھی ہے، اب اگر اس صورت میں اس کا وہاں (مہمند ایجنسی) دوبارہ جانے اور رہائش اختیار کرنے کا ارادہ ہو تو وہاں جانے سے قصر نماز پڑھے گا یا پوری اور اگر رہائش اختیار کرنے کا ارادہ نہ ہو تو پھر کیا حکم ہے؟
Answer
Related Fatwas
ایک مجلس میں تین طلاقوں کا حکم
ہمارے علاقے میں ایک شخص نے اپنی بیوی کو اکٹھے تین طلاق دیے اس نے پہلے دیوبندی علما سے مسئلہ پوچھ لیا…
رہائش کے لیے خریدے گئے گھر کی مالیت میں قربانی
ایک شخص ایک گھر میں رہتا ہے اور اس نے دوسرا گھر اپنے اور اپنے بچوں کی رہائش اور استعمال کے لیے…
طلاق کنائی کے بعد خلع کیا جائے تو عدت کے شروع کا حکم
میری 11 اپریل 2025 کو رخصتی ہوئی ،چونکہ میرےسسرال والے کراچی میں تھے اور میں پشاور میں رہتی تھی اس وجہ سے…
زندگی میں اولاد کے درمیان جائیداد کی تقسیم
ایک شخص کے چار بیٹے تھے اس نے اپنی زندگی میں اپنی جائیداد تقسیم کی، پہلے تین بیٹوں کو برابر حصہ دیا،…
لنڈے میں سے نکلنے والی رقم
لاٹ کی صورت میں جو لنڈے کا مال خریدا جاتا ہے، اس میں سے نکلنے والی نقد رقم (ڈالرز وغیرہ) کا کیا…
غسل کے بعد میت کا پیٹ جاری ہونے کی صورت میں پیمپر پہنانا
میت کو غسل دیتے وقت اس کا پیٹ جاری ہوا، کسی بیماری کے باعث اور وہ رکنے کا نام نہیں لے رہا…