تجدید نکاح میں تجدید مہراوربیوی کی رضامندی کاحکم

Reviewed Updated January 22, 2026 35

Question

طلاق بائن واقع  ہونے کے بعد اگر نیانکاح کروانا ہو تو اس میں مطلقہ عورت کی رضا مندی ضروری ہوگی یانہیں؟2:کیا نیا مہرمقررہوگا یا وہی پرانا کافی ہوگا؟

Answer

شریعت مطہرہ کی روسےطلاق بائن کےبعد تجدید نکاح کرنےکی صورت میں مطلقہ بیوی کی رضامندی ضروری ہوتی ہےنیزیہ بھی واضح رہےکہ تجدید نکاح میں نئےمہرکی تقرری لازمی ہوتی ہے۔ لہٰذاصورت مسئولہ میں تجدید نکاح میں مطلقہ بیوی کی رضامندی ضروری ہےاورنیامہرمقررکرنا بھی لازم ہے۔   عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده، ''أن رسول الله صلى الله عليه وسلم ‌رد ‌ابنته ‌زينب ‌على ‌أبي ‌العاص ‌بن ‌الربيع ‌بمهر ‌جديد ‌ونكاح ‌جديد''.(سنن الترمذي، باب ما جاء في الزوجين المشركين يسلم أحدهما، رقم الحديث:1142، ج:3، ص:439) والفرق بين الرجعي والبائن اربعة عشر خصلةاحدها الطلاق الرجعي لا يحتاج الى تجديد النكاح والثاني لا يحتاج الى زيادة المهر.....، والرابع لا يحتاج الى رضاء المرأة.....، والبائن خلاف ذلك في هذه كلها.(النتف في الفتاوى للسغدي، ‌‌مطلب الكتاب في اوجه النكاح، ج:1، ص:321،23) فتویٰ نمبر : 7368/297/324 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2026-01-22 کتاب النکاح متفرقات

Share: WhatsApp Facebook Telegram X Copy