واضح رہے کہ سوال میں مذکور حدیث مبارک سنن ابن ماجہ، مسند احمد،صحیح ابن حبان،سنن نسائی،صحیح ابن خزیمہ،سنن ترمذی اور دیگر کتب حدیث میں نقل کی گئی ہے۔ سنن ترمذی کی سندومتن درج ذیل ہے: حدثنا قتيبة قال: حدثنا أبو الأحوص، عن سماك بن حرب، عن إبراهيم، عن علقمة، والأسود، عن عبد الله، قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: إني عالجت امرأة في أقصى المدينة وإني أصبت منها ما دون أن أمسها وأنا هذا فاقض في ما شئت، فقال له عمر: لقد سترك الله لو سترت على نفسك، فلم يرد عليه رسول الله صلى الله عليه وسلم شيئا، فانطلق الرجل فأتبعه رسول الله صلى الله عليه وسلم رجلا، فدعاه فتلا عليه {وأقم الصلاة طرفي النهار وزلفا من الليل إن الحسنات يذهبن السيئات ذلك ذكرى للذاكرين} [هود: 114] إلى آخر الآية، فقال رجل من القوم: هذا له خاصة؟ قال: لا، بل للناس كافة. هذا حديث حسن صحيح.(سنن الترمذی،أبواب تفسير القرآن،باب: ومن سورة هود، رقم الحدیث:3112، ج:5، ص:289) فتویٰ نمبر : 6612/297/328 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2026-01-22 کتاب العقائد قرآن اورحدیث سے متعلقہ مباحث کابیان
تخریج وتحقیقِ حدیث مبارک
سوال
اس حدیث مبارکہ کی تحقیق و تخریج مطلوب ہے: ابو احوص نے سماک سے ، انہوں نے ابراہیم سے ، انہوں نے علقمہ اور اسود سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو اس نے کہا : اللہ کے رسول! میں نے مدینہ کے آخری حصے میں ایک عورت کو قابو کر لیا اور اس کے علاوہ کہ میں اس سے جماع کروں میں نے اس سے اور سب کچھ حاصل کر لیا ۔ تو ( اب ) میں آپ کے سامنے حاضر ہوں ، آپ میرے بارے میں جو چاہیں فیصلہ کر لیں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا : اللہ نے تمہارا پردہ رکھا ، کاش! تم خود بھی اپنا پردہ رکھتے ۔ ( حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ) کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہ دیا ۔ تو ( کچھ دیر بعد ) وہ شخص اٹھا اور چل دیا ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے پیچھے ایک آدمی بھیج کر اسے بلایا اور اس کے سامنے یہ آیت پڑھی : " دن کے دونوں حصوں اور رات کے کچھ حصوں میں نماز قائم کرو ، بےشک نیکیاں برائیوں کو ختم کر دیتی ہیں ۔ یہ ان کے لیے یاددہانی ہے جو اچھی بات کو یاد رکھنے والے ہیں ۔ " اس پر لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا : اللہ کے نبی! کیا یہ خاص اسی کے لیے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : " بلکہ تمام لوگوں کے لیے ہے ۔ "
جواب
Related Fatwas
رشتہ داروں اورآفت زدگان میں سے بہترمصرف زکوٰۃ
اگربرادری کے لوگ اپنی زکوٰۃ صرف اپنی ہی برادری کے مستحقین کو دیتے ہوں، تو جب قدرتی آفت (مثلاً : سیلاب وغیرہ)…
فوت شدہ شوہر کے ذمہ مہر
اگر کسی کا بیٹا فوت ہو گیا ہواور اس فوت شدہ بیٹے نے اپنی بیوی کا مکمل مہر ادا نہ کیا ہو،…
نسوار كا كاروبار كرنا
ایک شخص نسوار کا کاروبار کرتا ہے، اور اس میں مختلف اشیاء شامل کی جاتی ہیں۔ کیا شریعت میں ایسا کاروبار جائز…
تایا زاد بہن کی بیٹی سے نکاح کرنا
ہمارے علاقے میں تایا زاد بہن کی بیٹی کے ساتھ نکاح کرنا اچھا نہیں سمجھا جاتا، کیونکہ اسے عرف عام میں بھانجی…
انبیا علیہم السلام کو شیطان کے وسوسہ سے نسیان کا ہونا
سورت کہف میں ذکر ہے کہ حضرت موسی علیہ السلام کے ساتھی نے ان سے کہا کہ شیطان نے مجھے بھلا دیا…
قسط کی ادائیگی میں تاخیر کی وجہ سے اضافی رقم لینا
اگر کوئی شخص کسی خریدارکو کوئی چیز قسطوں پر، ایک متعین مدت کے ساتھ، نقد کے مقابلے میں زیادہ قیمت پرفروخت کرے،…