سجدہ سہو واجب نہ ہونے کی صورت میں سجدہ سہوکرنا

Reviewed Updated January 9, 2026 19

Question

اگر کسی شخص پرسجدہ سہو واجب نہ ہو لیکن لا علمی کی وجہ سےسجدہ سہو کرے تو نماز کا کیا حکم ہے؟نماز کو دوبارہ لوٹانا چاہیے یا نہیں؟

Answer

واضح رہے کہ اگر نماز میں کوئی ایسی غلطی ہوجائےجس کی وجہ سے سجدہ سہو واجب  نہ ہوتا ہو، لیکن لاعلمی کی وجہ سے سجدہ سہو کیا جائےتو اس سے نماز پر اثر نہیں پڑتا۔ لہذا صورتِ مسئولہ کے مطابق اگر کسی نے نماز میں سجدہ سہو واجب ہوئے بغیرلا علمی کی وجہ سے سجدہ سہو کیا ہوتواس کی نماز صحیح ہے۔   إذا ظن الإمام أنه عليه سهواً فسجد للسهو وتابعه المسبوق في ذلك ثم علم أن الإمام لم يكن عليه سهو فيه روايتان ... وقال الإمام أبو حفص الكبير: لايفسد، والصدر الشهيد أخذ به في واقعاته، وإن لم يعلم الإمام أن ليس عليه سهو لم يفسد صلاة المسبوق عندهم جميعا. ( خلاصة الفتاوى، كتاب الصلوة، الفصل الخامس عشر في الإمامة والإقتداء، ج:1، ص:163 ) ولو ظن الإمام السهو فسجد له فتابعه فبان أن لا سهو فالأشبه الفساد لاقتدائه في موضع الانفراد.قال ابن عابدين: قوله (فالأشبه الفساد) وفي الفيض: وقيل لا تفسد وبه يفتي. وفي البحر عن الظهيرية قال الفقيه أبو الليث: في زماننا لا تفسد لأن الجهل في القراء غالب. ( الدرالمختارمع ردالمحتار، كتاب الصلوة، باب الإمامة، ج:2، ص:350 ) فتویٰ نمبر : 10871/297/321 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2026-01-09 کتاب الصلوۃ سجدہ سہوکے احکام

Share: WhatsApp Facebook Telegram X Copy