عورت کا غیر محرم مرد کا جھوٹا کھانا یا پینا

Reviewed Updated October 2, 2025 28

Question

کیا کوئی عورت غیر محرم مرد کا جھوٹا کھا سکتی ہے، اور جھوٹا پی سکتی ہے؟

Answer

واضح رہے کہ عورت کے لیے کسی غیرمحرم مرد یا مرد کے لیے کسی غیر محرم عورت کا جھوٹا کھانے یا پینے ميں کراہت ہے، لہٰذا اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔    (فسؤر آدمي مطلقا)....نعم يكره ‌سؤرها ‌للرجل كعكسه للاستلذاذ واستعمال ريق الغير، وهو لا يجوز مجتبى...(قوله نعم يكره سؤرها إلخ) أي في الشرب لا في الطهارة بحر. قال الرملي: ويجب تقييده بغير الزوجة والمحارم.(رد المحتار علی الدر المختار، كتاب الطهارة، باب المياه، ج:1 ص:221) فقد‌ صرح‌ في‌ المجتبى من باب الحظر والإباحة أنه يكره سؤر المرأة للرجل وسؤره لها.(البحر الرائق شرح کنز الدائق، كتاب الطهارة، طهارة سؤر الآدمي والفرس وما يؤكل لحمه،  ج:1، ص:133) فتویٰ نمبر : 6460/297/328 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2025-10-02 کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) کھانے پینے کے احکام

Share: WhatsApp Facebook Telegram X Copy