حقیقی بھائی کی رضاعی بہن سے نکاح کرنا

Reviewed Updated January 22, 2026 42

Question

ایک عورت (سلطانہ) نے اپنی بیٹی (نبیلہ) اور ایک لڑکے (محمد حسن) کو ایک ساتھ دودھ پلایا ہے، محمد حسن کا ایک عینی بھائی (محمد نبی ) ہے، کیا محمد نبی کا نکاح محمد حسن کی رضاعی بہن (نبیلہ) کے ساتھ جائز ہے یا نہیں؟

Answer

شریعت مطہرہ کی رو سے دودھ پینے والے بچے کے لیے دودھ پلانےوالی عورت اور اس کے اصول وفروع سے نکاح کرناجائز نہیں، لیکن یہ حرمت صرف اس دودھ پینے والے کے ساتھ خاص ہے، اس کے دوسرے بہن بھائیوں کی طرف متعدی نہیں ہوتی۔ لہذا صورت مسئولہ میں محمد نبی کااپنے حقیقی بھائی( محمد حسن) کی رضاعی بہن (نبیلہ) سےنکاح کرنا جائز ہے، بشرطیکہ حرمت کی کوئی اور وجہ نہ ہو۔   ولو أرضعت أمه جارية لها إخوة وأخوات كان له أن يتزوج أخوات تلك الجارية؛ لأن التي أرضعتها الأم أخته من الرضاعة، ولا سبب بينه وبين أخواتها.(المبسوط للسرخسي، باب تفسيرلبن الفحل، ج: 30، ص: 301) (وتحل أخت أخيه رضاعاً) يصح اتصاله بالمضاف كأن يكون له أخ نسبي له أخت رضاعية، وبالمضاف إليه كأن يكون لأخيه رضاعاً أخت نسباً وبهما وهو ظاهر.۔(ردالمحتار علی الدر المختار،باب الرضاع، ج:3، ص:217) فتویٰ نمبر : 7366/297/324 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2026-01-22 کتاب النکاح رضاعت کے احکام

Share: WhatsApp Facebook Telegram X Copy