دیت چونکہ ایک واجب الادا حق ہے، اس لیے اگر قاتل اس کی ادائیگی کی استطاعت نہ رکھتا ہو اور فقیر ہو، تو فقہی اصول کے مطابق وہ "غارم" (قرض دار) شمار ہوگا۔ ایسے فقیر و مقروض شخص کو زکوٰۃ دینا جائز بلکہ افضل قرار دیا گیا ہے۔ البتہ قاتل کی اجازت کے بغیر زکوٰۃ کی رقم مقتول کے ورثا کو بطور دیّت دینا درست نہیں،اس سے زکوٰۃ ادا نہ ہوگی،البتہ اگر قاتل کی اجازت سے دی جائے تو پھرزکوٰۃ ادا ہوجائے گی۔ صورتِ مسئولہ کےمطابق اگر قاتل فقیر ہے اور اس پر دیّت واجب الادا ہے، تووہ غارم کے حکم میں آئے گا،اس کو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے۔ لیکن براہ راست مقتول کے ورثاء کو قاتل کی اجازت کے بغیرزکوٰۃ دینا درست نہیں۔ قاتل کو زکوٰۃ دی جائے کہ وہ خود اس سے دیّت ادا کرے، یا قاتل کی اجازت سے مقتول کے ورثا کو دی جائے تو اس سے بھی زکوٰۃ ادا ہوجائے گی اور دیت بھی۔ (والعاقلة أهل الديوان) وهم العسكر، وعند الشافعي: أهل العشيرة وهم العصبات (لمن هو منهم فيجب عليهم كل دية وجبت بنفس القتل).....(فتؤخذ من عطاياهم أو من أرزاقهم....(في ثلاث سنين) من وقت القضاء، وكذا ما يجب في مال القاتل عمدا بأن قتل الاب ابنه يؤخذ في ثلاث سنين عندنا، وعند الشافعي تجب حالا (فإن خرجت العطايا في أكثر من ثلاث أو أقل تؤخذ منه) لحصول المقصود (وإن لم يكن) القاتل (من أهل الديوان فعاقلته قبيلته) وأقاربه وكل من يتناصر هو به.تنوير البصائر. (وتقسم) الدية (عليهم في ثلاث سنين لا يؤخذ في كل سنة إلا درهم أو درهم وثلث. (الدرالمختار،كتاب الديات،كتاب المعاقل،ج:6،ص:640-642) (ومنها الغارم)،وهو من لزمه دين،ولا يملك نصابا فاضلا عن دينه أو كان له مال على الناس لا يمكنه أخذه كذا في التبيين.والدفع إلى من عليه الدين أولى من الدفع إلى الفقير كذا في المضمرات.والدفع إلى من عليه الدين أولى من الدفع إلى الفقير،كذا في المضمرات. (الفتاوى الهندية،كتاب الزكاة، الباب السابع في المصارف،ج:1،ص:188) فإن كان مديونا فدفع إليه مقدار ما لو قضى به دينه لا يبقى له شيء أو يبقى دون المائتين لا بأس به. (الفتاوى الهندية،كتاب الزكاة، الباب السابع في المصارف،ج:1،ص:250) فتویٰ نمبر : 10741/297/321 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2025-10-02 کتاب الزکوٰۃ مصارفِ زکوٰۃ
فقیر قاتل کو زکوٰۃ دینا
سوال
اگر قاتل فقیر ہے (یعنی اس کے پاس نصاب کے بقدر مال نہیں)، تو وہ غارم (مقروض)میں شامل ہوگایا نہیں؟ کیونکہ دیت بھی شرعاً واجب الادا قرض کے حکم میں ہے۔اس صورت میں زکوٰۃ کے پیسے قاتل کو مالک بنا کر دینا درست ہےیا نہیں؟ اور وہ اس سے دیت ادا کر سکتا ہے۔ زکوٰۃ براہِ راست مقتول کےورثاء کو بطور دیت نہ دی جائے، بلکہ قاتل کو دے کر وہ خود ورثاء کو ادا کرے۔
جواب
Related Fatwas
روزے کی حالت میں خوشبو کا ناک میں،اور دھوئے کا حلق میں جانا
اگر کوئی شخص روزہ سےہو اور اس حالت میں خوشبو ناک میں چلی جائے یا دھواں حلق میں چلاجائے تو ایسےروزے کا…
رہن میں رکھی ہوئی چیز کی زکوۃ
اگر کوئی شخص کسی کے پاس کوئی مال رہن (گروی) کے طور پر رکھے، تو سال مکمل ہونے پراس مال کی زکوٰۃ…
شوہر،ماں،باپ، اور تین بیٹیوں كے درميان تقسیم میراث
1۔اگر ایک عورت وفات پا جائے اور وہ اپنے پیچھے شوہر، حقیقی ماں، باپ اور تین بیٹیاں چھوڑ جائے، تو اس کے…
ایڈوانس رقم پر زکوۃ
كرایہ دار جو مالک مکان کوایڈوانس رقم دیتا ہے اس کی زکوٰۃکس پر واجب ہوگی ؟
سجدہ کرنے پر قادر نہ ہونے کی صورت میں کرسی کے مقابلے میں زمین پر بیٹھ کر اشارے سے نماز پڑھنا زیادہ بہتر ہے
میرے گھٹنوں میں تکلیف ہے جس کی وجہ سے نماز پڑھنے میں مسئلہ درپیش رہتا ہے، خاص کر سجدے میں جانے میں…
نکاح خواں کےتلقین کردہ الفاظ کے جواب میں “جی” کہنا
اگر نکاح خواں نے لڑکی کو کہا کہ فلاں بنت فلاں آپ نے اپنے آپ کو اتنے مہر کے عوض فلاں بن…