مدرسے کے اساتذہ کو قربانی کا گوشت کھلانا

Reviewed Updated May 24, 2026 31

Question

 اگر کسی مدرسے کے اساتذہ کا کھانا اُن کی تنخواہ سے ہو، تو اُن کو مدرسے میں موجود قربانی کے گوشت میں سے کھلانا كيسا ہے؟

Answer

واضح رہے کہ قربانی کا گوشت آدمی خود بھی کھا سکتا ہے، اس کو صدقہ اور ہبہ بھی کرسکتا ہے۔ اور جس شخص پر صدقہ یا ہبہ کیا  جائے وہ اس کا مالک بنتا ہے، اس کے بعد وہ اپنی مرضی سےاستعمال  کرسکتا ہے۔ صورتِ  مسئولہ کے مطابق  جب کسی مدرسے کو قربانی کا گوشت ہبہ یا صدقہ کیا گیا ہو، تو مدرسے کے طلبا کے ساتھ ساتھ  مدرسے کے  منتظمین اس کو خود بھی کھا سکتے ہیں اور مدرسے کے ان اساتذہ کو بھی کھلا سکتے ہیں جن کا کھانا تنخواہ سے ہو۔   ويطعم الفقير والغني جميعا؛ لكون الكل أضياف الله تعالى - عز شأنه - في هذه الأيام وله أن يهبه منهما جميعا. (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، کتاب التضحیة، ج:6، ص:331) ويستحب أن يأكل من أضحيته ويطعم منها غيره، والأفضل أن يتصدق بالثلث ويتخذ الثلث ضيافة لأقاربه وأصدقائه، ويدخر الثلث، ويطعم الغني والفقير جميعا، كذا في البدائع. (الفتاوى الهندية، کتاب الأضحية، ج:5، 346) أما أصل الحكم فهو ثبوت الملك للموهوب له في الموهوب من غير عوض لأن الهبة تمليك العين من غير عوض فكان حكمها ملك الموهوب من غير عوض. (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، كتاب الهبة، ج:8، ص:115) فتویٰ نمبر : 10951/297/321 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2026-05-24 کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) قربانی کا گوشت اور کھال

Share: WhatsApp Facebook Telegram X Copy