مضاربت ميں متعين نفع مقرر كرنا

Reviewed Updated September 29, 2025 57

سوال

ایک شخص کسی دکاندار کو(2) لاکھ روپے دینا چاہتا ہے،وہ دکاندار کپڑے کا کاروبار کرتا ہےاور دکانداراس رب المال کو ہر مہینے متعین نفع دینا چاہتا ہے، تو سوال یہ ہےکہ کیا یہ صورت جائز ہے، اگر جائز نہیں تواس کی جائز صورت بیان فرمائیں؟

جواب

واضح رہے کہ مضاربت میں ایک فریق سرمایہ فراہم کرتا ہےاوردوسرا فریق محنت کرتا ہےاوردونوں نفع میں طے شدہ نسبت کے مطابق شریک ہوتے ہیں، مضاربت میں کسی ایک فریق کا متعین نفع کا مطالبہ کرنا جائزنہیں۔ صورت مسؤلہ میں چونکہ دکاندار رب المال کےلیے ماہانہ ایک متعین مقدار میں نفع مقررکرنا چاہتا ہے، اس لیے یہ معاملہ جائز نہیں، لہذا اس سے بچنا ضروری ہے، البتہ اس کی جائز صورت یہ ہےکہ دکاندار راس المال سے حاصل ہونے والے منافع میں رب المال کا حصہ تناسب کے اعتبار سے متعین کرے، مثلاً: نصف، تہائی وغیرہ۔   أما ‌تفسيرها ‌شرعا فهي عبارة عن عقد على الشركة في الربح بمال من أحد الجانبين والعمل من الجانب الآخر. (الفتاوى الهندية، كتاب المضاربة،ج:4،ص:285) وشرعا: (عقد الشركة في الربح بمال من جانب) رب المال (وعمل من جانب) المضارب. (الدر المختار، كتاب المضاربة، ج: 5، ص: 645) أن يكون المشروط لكل واحد منهما من المضارب ورب المال من الربح جزءا شائعا، نصفا أو ثلثا أو ربعا. (بدائع الصنائع،كتاب المضاربة،ج:6 ،س:85) فتویٰ نمبر : 3919/297/322 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2025-08-27 کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام)

Share: WhatsApp Facebook Telegram X Copy