امام کا رکوع اور سجدے میں تین بار سے زائد تسبیحات پڑھنا

Reviewed Updated December 25, 2025 40

Question

اگر کوئی امام رکوع اور سجدے میں تین بار سے زیادہ تسبیحات پڑھتا ہو جس کی وجہ سے بعض مقدیوں کو نا گواری ہو، تو امام صاحب کے لیے تسبیحات کا رکوع اور سجدے میں تین سے زیادہ مرتبہ پڑھنے کا کیا حکم ہے؟

Answer

واضح رہے کہ امام اور منفرد دونوں کے لیے رکوع اور سجدے میں تسبیحات کا تین بار سے کم پڑھنا مکروہ ہے۔ اسی طرح امام کے لیے تین بار سےزائد تسبیحات پڑھنا بھی اس وقت مستحب نہیں جب نماز میں اس وجہ سے طوالت آتی ہو اور اگر طوالت نہ آتی ہو تو پانچ مرتبہ تک پڑھنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔   ‌وصرحوا ‌بأنه ‌يكره ‌أن ‌ينقص ‌عن ‌الثلاث وأن الزيادة مستحبة بعد أن يختم على وتر خمس أو سبع أو تسع ما لم يكن إماما فلا يطول. (رد المحتار، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، ج:1، ص:494) فتویٰ نمبر : 10855/297/321 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2025-12-25 کتاب الصلوۃ نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان

Share: WhatsApp Facebook Telegram X Copy