واضح رہے کہ امام اور منفرد دونوں کے لیے رکوع اور سجدے میں تسبیحات کا تین بار سے کم پڑھنا مکروہ ہے۔ اسی طرح امام کے لیے تین بار سےزائد تسبیحات پڑھنا بھی اس وقت مستحب نہیں جب نماز میں اس وجہ سے طوالت آتی ہو اور اگر طوالت نہ آتی ہو تو پانچ مرتبہ تک پڑھنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ وصرحوا بأنه يكره أن ينقص عن الثلاث وأن الزيادة مستحبة بعد أن يختم على وتر خمس أو سبع أو تسع ما لم يكن إماما فلا يطول. (رد المحتار، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، ج:1، ص:494) فتویٰ نمبر : 10855/297/321 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2025-12-25 کتاب الصلوۃ نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
امام کا رکوع اور سجدے میں تین بار سے زائد تسبیحات پڑھنا
Question
اگر کوئی امام رکوع اور سجدے میں تین بار سے زیادہ تسبیحات پڑھتا ہو جس کی وجہ سے بعض مقدیوں کو نا گواری ہو، تو امام صاحب کے لیے تسبیحات کا رکوع اور سجدے میں تین سے زیادہ مرتبہ پڑھنے کا کیا حکم ہے؟
Answer
Related Fatwas
تلاوت کے دوران اذان کا جواب دینا
مسجد میں دورانِ تلاوت اگر اذان شروع ہوجائے تو کیا تلاوت جاری رکھی جائے یا قرآن مجید بند کرکے اذان کا جواب…
مستقبل کے الفاظ سے طلاق دینے کا حکم
میری شادی ہوئی،اس کے بعد میرا اور میری بیوی کا جھگڑا ہوا تو اس وقت میں نے اپنی بیوی کو دو مرتبہ…
نذر کا کھا نا خودکھانا
اگر کسی نے نذر کا کھا نا خودکھایا تو اس کا کیا حکم ہے؟
خلع لینے کے بعد سابقہ شوہر سے نکاح کرنا
اگر کوئی عورت شوہر کی مار پٹائی کی وجہ سے عدالت سے خلع کی ڈگری لے لے، جس پر شوہر بھی راضی…
تبلیغی جماعت کےمروجہ اعمال
تبلیغی جماعت میں جو"اجتماعیت" (اجتماعی طور پر نکلنا، اکٹھا ہو کر دین کی دعوت دینا، اور اجتماعات منعقد کرنا) رائج ہے، اس…
نفاس کا خون چالیس دن کے بعد بھی آنا
اگر کسی خاتون کا بچہ پیدا ہوجائے اور چالیس دن گزر جائیں اور عورت کا خون اب بھی جاری ہو، تو کیا…