منگنی توڑنے کے بعد دوسرے شخص سے نکاح کرنا

Reviewed Updated November 26, 2025 21

Question

اگرکئی لڑکے اورلڑکی کا رشتہ طے ہوجائے لیکن باقاعدہ نکاح نہ ہوا ہوصرف منگنی ہوئی ہواس میں نہ خطبہ پڑھا گیاہو نہ کوئی مہر مقرر  ہواور نہ لڑکی سے اختیار لیا گیاہوتو کیا محض رشتہ کی بات حتمی کرنے سے شرعا نکاح ہوجاتاہے یا  نہیں؟ نیز اس صورت حال میں لڑکی کے والدین کسی وجہ سے اس رشتہ کو ختم کرنا چاہیں تو کیا حکم ہے ؟

Answer

 جاننا چاہیے کہ دو گواہوں کی موجودگی میں طرفین کے ایجاب وقبول سے نکاح منعقد ہوتاہے چنانچہ اگرعرف ورواج کے مطابق کسی لڑکی کو کسی مرد کی طرف منسو ب کرنے کی بات ہوجائے لیکن  باقاعدہ ایجاب وقبول نہ ہوا ہوتو یہ عمل نکاح نہیں بلکہ وعدہ نکاح ہے۔ صورت مسؤلہ کے مطابق اگر لڑکے اور لڑکی کا رشتہ  طے ہو جائے لیکن باقاعدہ نکاح نہ ہواہوصرف منگنی ہوئی ہوجس میں نہ خطبہ پڑھا گیا ہو نہ کوئی مہر مقررہواورنہ ہی لڑکی سے اختیار لیا گیا ہوتو محض رشتہ کی بات کرنے سے شرعاً نکاح منعقد نہیں ہوتا لہذا اگراس لڑکی کے والدین کسی  وجہ سے اس رشتہ کو ختم کرنا چاہیں تورشتہ ختم کرنا ان کے اختیار میں ہے البتہ رشتہ ختم کرنے کی صورت میں وعدہ کی خلاف ورزی کے مرتکب ٹھہریں گے اس لیے کسی واقعی عذر کی بناء پر ہر گزوعدہ خلافی نہ کریں۔   قال ‌في ‌شرح ‌الطحاوي: لو قال هل أعطيتنيها فقال أعطيت إن كان المجلس للوعد فوعد، وإن كان للعقد فنكاح.(رد المحتار على الدر المختار،ج:3،ص:11) ولا يلزم الوعد ‌إلا ‌إذا ‌كان ‌معلقا.(الأشباه والنظائرلابن نجيم،ص:247) فتویٰ نمبر : 7297/297/324 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2025-11-26 کتاب النکاح متفرقات

Share: WhatsApp Facebook Telegram X Copy