وقف تام ہونے کے بعد موقوفہ چیز میں میراث کا دعوی کرنا

Reviewed Updated January 22, 2026 66

سوال

ہمارے والد نے تین سال پہلے ایک جگہ مدرسے کے لئے وقف کی تھی، اس جگہ میں مدرسہ بھی بنا تھا اور طلبہ سبق بھی پڑھتے ہیں، اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ زمین ہمارے والد کی میراث میں تقسیم ہوگی یا نہیں؟

جواب

واضح رہے كہ جب کوئی زمين كسى خاص مصرف كے ليے وقف كى جائے اوراس مقصد میں استعمال بھی شروع ہوجائے تو وقف تام ہو جاتا ہے، چنانچہ مدرسہ کے لیے وقف کی گئی زمین میں جب تعلیمی سلسلہ شروع ہو جائے تووقف تام ہوجاتاہے اور وہ وقف کرنے والے کی ملکیت سے نکل جاتی ہے، لہذا اس کے مرنے کے بعدوہ میراث میں تقسیم نہ ہوگی۔ صورت مسئولہ کے مطابق اگرواقعی  زمین مدرسہ کے لیے وقف کی گئی تھی ، اور اس میں تعلیم کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہو تو چونکہ وقف تام ہوچکا ہےاس لیے اب یہ میراث نہیں۔   قال ومن اتخذ أرضه مسجدا لم يكن له أن يرجع فيه ولا يبيعه ولا يورث عنه لأنه تجرد عن حق العباد وصارخالصالله تعالیٰ۔(الهداية، کتاب الوقف،ج:4، ص:411) قال: وإن جعل أرضا له مسجدا لعامة المسلمين وبناها وأذن للناس بالصلاة فيها وأبانها من ملكه فأذن فيه المؤذن وصلى الناس جماعة صلاة واحدة أو أكثر لم يكن له أن يرجع فيه وإن مات لم يكن ميراثا" لأنه حرزها عن ملكه وجعلها خالصة لله تعالى۔(المبسوط للسرخسي، كتاب الوقف، ج:11، ص: 124) (قوله:بجماعة)لأنه لا بد من التسليم عندهما خلافا لأبي يوسف، وتسليم كل شيء بحسبه، ‌ففي ‌المقبرة ‌بدفن ‌واحد وفي السقاية بشربه وفي الخان بنزوله كما في الإسعاف، واشتراط الجماعة لأنها المقصودة من المسجد.( ردالمحتارعلى الدرالمختار، كتاب الوقف، ج: 4، ص:357) فتویٰ نمبر : 6606/297/328 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2026-01-22 کتاب الوقف احکام مدارس

Share: WhatsApp Facebook Telegram X Copy