دورانِ عدت سبق کے لیے مدرسہ جانا

Reviewed Updated December 7, 2025 55

Question

ایک عورت مدرسہ میں سبق پڑھتی ہے اب اس کا شوہر فوت ہوچکا ہے، تو کیا اس کے لیے عدت کے دوران سبق کے لیے مدرسہ جانا درست ہے یا نہیں؟

Answer

جس عورت کا شوہر فوت ہو چکا ہو، اس عورت پر چار ماہ دس دن عدت گزارنا شوہر کے گھر لازم ہے اور بغیر ضرورتِ شدیدہ کے اس گھر سے نکلنا اس کے لیے جائز نہیں، تاوقتیکہ عدت پوری نہ ہو، تاہم ضرورت شدیدہ کے وقت اس کے لیے دن کے وقت گھر سے نکلنا مرخص ہے، بشرطیکہ وہ کام نمٹاتے ہی گھر واپس چلی جائے۔  صورت مسئولہ میں چونکہ مدرسہ جانا اور سبق پڑھنا ضرورت شدیدہ نہیں، اس وجہ سے دورانِ عدت سبق کے لیے مدرسہ نہیں جاسکتی۔   فالظاهر ‌من ‌كلامهم ‌جواز ‌خروج ‌المعتدة عن وفاة نهارا، ولو كانت قادرة على النفقة. (البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق، کتاب الطلاق، فصل في الإحداد، ج:4، ص: 166) (ومعتدة موت تخرج في الجديدين وتبيت) أكثر الليل (في منزلها) لأن نفقتها عليها فتحتاج للخروج، حتى لو كان عندها كفايتها صارت كالمطلقة فلا يحل لها الخروج فتح….  (وتعتدان) أي معتدة طلاق وموت (في بيت وجبت فيه) ولا يخرجان منه (إلا أن تخرج أو يتهدم المنزل، أو تخاف) انهدامه، أو (تلف مالها، أو لا تجد كراء البيت) ونحو ذلك من الضرورات فتخرج لأقرب موضع إليه. ( رد المحتار علی الدر المختار، باب العدۃ، فصل في الحداد، ج:3، ص:536) فتویٰ نمبر : 7328/297/324 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2025-12-07 عدت کے احکام

Share: WhatsApp Facebook Telegram X Copy