سیرت النبی ﷺمقابلےمیں شرکت کرکے انعام لینا

Reviewed Updated January 22, 2026 18

Question

ایک مال دار شخص نے ایک پرائیویٹ اسکول کے نگران سے کہا کہ آپ ٹیلنٹ ٹیسٹ کے تحت سیرت النبی ﷺمقابلے کا انعقاد کریں، شرکاء کے درمیان مقابلہ ہونے کے بعد اول، دوم سوم پوزیشن حاصل کرنے والوں کو بالترتیب 3لاکھ،2لاکھ اور 1لاکھ  روپے میری طرف سے دیے جائیں گے،اب اسکول والوں نے اس مقابلے میں شرکت کرنے کے لیے 500 روپے انٹری فیس مقرر کی ہے،تاکہ اس سے پروگرام وغیرہ کے اخراجات پورے کیے جائیں  اب اس مقابلے میں شرکت کرنا جائز ہے یا نہیں، اور یہ صورت قمار (جوا)میں داخل ہوگی یا نہیں ؟

Answer

واضح رہے کہ  مسابقہ میں اگر جانبین کے علاوہ تیسرے آدمی کی طرف سے انعام مقرر کیا گیا ہو تو یہ جائز ہے،کیونکہ   جس طرح   گھوڑوں اور اونٹوں کے دوڑ کی اور تیر اندازی کا مسابقہ کرنا جائز اور ثابت ہے اسی طرح  فقہاء کرام نے ہر اس مسابقہ کی اجازت دی ہے جس سے کوئی دینی یا دنیاوی جائز مقصد وابستہ ہو۔ صورت مسئولہ کے مطابق نبی کریمﷺ کی حیات مبارکہ کے ہر پہلو سے لوگوں کو خبردار کرنااور ان میں سنت پر عمل کرنے کا جذبہ اجاگر کرنا بھی ایک اہم دینی مقصد ہے لہذا اس جیسی محفل میں کسی شخص کی طرف سے اول ،دوم ،سوم پوزیشن حاصل کرنے والوں کے لیے انعام مقرر کرنا  قمار کے حکم میں داخل نہیں ہے اور اس میں شرکت کرنا جائز ہے ،نیز اسکول  انتطامیہ کو چاہیئے کہ انٹری فیس کی رقم کو واقعتاً پروگرام  کے اخراجات کےلیے   استعمال کرے ان رقوم کوپیسہ کمانے کا ذریعہ نہ بنائے ۔   وما يفعله الأمراء فهو جائز أيضا بأن يقولوا لاثنين: أيكما سبق فله كذا.( الفتاوى الهندية، کتاب الحظر والإباحة، باب المسابقة، ج:5، ص:324) (قوله من جانب واحد) ...أو يقول الأمير لفارسين أو راميين من سبق منكما فله كذا. (رد المحتار علی الدرالمختار، کتاب الحظر والإباحة، ج:9، ص:578)   (و) كذا الحكم (في المتفقهة) قوله وكذا الحكم في المتفقهة أي على هذا التفصيل وكذا المصارعة على هذا التفصيل وإنما جاز، لأن فيه حثا على الجهاد وتعلم العلم. (رد المحتارعلی الدرالمختار، کتاب الحظر والإباحة، ج:9، ص:577) فتویٰ نمبر : 6605/297/328 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2026-01-22 کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) دیگرمتفرق مسائل

Share: WhatsApp Facebook Telegram X Copy