واضح رہے کہ اکراہ (مجبوری)کی حالت میں بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے،بشرطیکہ طلاق زبان سے دی گئی ہو۔ لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر اس شخص نے رشتہ داروں کے دباؤ کی وجہ سےاپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں ،تو اس سے طلاق مغلظہ واقع ہو جائے گی۔ایسی صورت میں وہ عورت اس کے لیے حلال نہیں رہتی چنانچہ وہ اسے اپنے پاس نہیں رکھ سکتا ۔ قوله: (ولو مكرها) أي ولو كان الزوج مكرها على إنشاء الطلاق لفظا خلافا للأئمة الثلاثة…..ولنا ما أخرجه الحاكم وصححه )ثلاث جدهن جد).(البحر الرائق شرح كنز الدقائق،كتاب الطلاق،ج:3، ص:264) فتویٰ نمبر : 7370/297/324 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2026-01-22 کتاب الطلاق متفرق احکامِ طلاق
كسی کے دباؤ کی وجہ سے بیوی کو طلاق دینا
سوال
اگر ایک شخص ایک لڑکی کے ساتھ نکاح کرے اور پھر اس کے رشتہ دار اس کو طلاق دینے پر مجبور کریں چنانچہ وہ اسے تین طلاق دے دے تو کیا طلاق واقع ہو جائے گی یا نہیں؟اور کیا پھر وہ اس عورت کو اپنے پاس رکھ سکتا ہےکہ دباؤ کی وجہ سے طلاق دی گئ تھی۔
جواب
Related Fatwas
پوتے کی بیوی کو مہر میں متعین مکان لکھنے کے بعد کسی دوسرے کا اس میں تصرف کرنا
ایک شخص اپنے پوتے کی بیوی کو حق مہر میں کوئی متعین مکان لکھ کر دے دے، تو کیا عورت اس کی…
ٹھیکدار کا محکمہ سے زیادہ قیمت وصول کر کےسٹاف کو کم دینا
محکمہ سوئی گیس میں بعض جو نئیر سٹاف اور لیبر کا تقرر بطور ڈیلی ویجز ہوتا ہے، جس کی تقرری کا طریقہ…
سوتیلی ماں کی اس بیٹی سے نکاح کرنا جو دوسرے شوہرسےہو
زید کی ایک بیوی ہے شازیہ اور اس سے ایک بیٹی ہے گل ناز بی بی ،پھر زید نے ایک دوسری بیوہ…
گھر کی مشترکہ رقم سے بیوی بچوں کے اخراجات پوری کرنا
ایک بھائی اپنے حقیقی بھائی کو ہر ماہ گھریلو اخراجات کی مد میں ایک متعین رقم بھیجتا ہے۔ رقم وصول کرنے والا…
اپنی منکوحہ کوفون پر تین طلاقیں دینے کا حکم
اگر کوئی شخص اپنی منکوحہ (جس کی رُخصتی نہ ہوئی ہو) کےبارے میں فون پریہ الفاظ کہ " وہ مجھ پر تین…
بیماری کی وجہ سے محمد نام تبدیل کرنے کا حکم
میرے بیٹے کا نام ”محمد بن عبد السلام“ ہے۔ وہ بہت بیمار رہتا ہے۔ سب کہتے ہیں کہ اس کا نام بدل…