واضح رہےکہ میاں بیوی کی علیحدگی کے بعد جب تک بچوں کی عمر سات سال اور بچیوں کی عمر نو سال نہیں ہوجاتی ماں کو ان کی پرورش کا حق حاصل ہے، بشرطیکہ وہ دوسری جگہ بچوں کے غیر محرم سے شادی نہ کرلے، پس اگر اس نے شادی کرلی تو اس کا حق ساقط ہوجائے گا ،نیز اگر ماں فسق و فجورکے راستہ پر ہو تو اس صورت میں بھی بچوں کی پروش کا حق ساقط ہو جائے گا اوربچوں کی نانی کو مذکورہ عمر مکمل ہونے تک حق ہوگا، اس کے بعد دادی کو پرورش کا حق ہوگا، اگر دادی بھی نہ ہو تو پھر دادی کی ماں، اس کے بعد بچے کی بہن (سگی)، پھر خالہ ،پھر پھوپھی کو یہ حق بالترتیب منتقل ہوتا ہے ۔لیکن بچوں کا نان نفقہ بہر حال باپ پر ہی لازم ہوتا ہے۔ لڑکوں کی عمر جب سات سال اور لڑکی کی عمر نو سال ہوجائے تو پرورش کا حق باپ کو منتقل کیا جائے گا۔ صورتِ مسئولہ کے مطابق اگر بچوں کی عمر سات سال اور بچیوں کی عمر نو سال سے کم ہوتو ماں انہیں اپنی پرورش میں رکھ سکتی ہے، بشرطیکہ وہ دوسری جگہ بچوں کے غیر محرم سےشادی نہ کرلے، پس اگر اس نے شادی کرلی تو ماں کا حق ساقط ہوجائے گا ، اسی طرح سے اگر ماں فسق و فجورکے راستہ پر ہو، تو اس صورت میں بھی بچوں کی پروش کا حق ساقط ہو جائے گا اور بچوں کی نانی کو مذکورہ عمر مکمل ہونے تک پرورش کا حق ہوگا، پھر دادی کو یہ حق منتقل ہوتا ہے ۔ جب کہ بچوں کے نفقہ و دیگر اخراجات کی ذمہ داری باپ پر ہوگی۔ اور لڑکوں کی عمر جب سات سال اور لڑکیوں کی عمر نو سال ہوجائے تو پرورش کا حق باپ کو منتقل ہوجائے گا۔ أحق الناس بحضانة الصغير حال قيام النكاح أو بعد الفرقة الأم إلا أن تكون مرتدةً أو فاجرةً غير مأمونة، كذا في الكافي ... وإن لم يكن له أم تستحق الحضانة بأن كانت غير أهل للحضانة أو متزوجةً بغير محرم أو ماتت فأم الأم أولى من كل واحدة ... والأم والجدة أحق بالغلام حتى يستغني، وقدر بسبع سنين، وقال القدوري: حتى يأكل وحده، ويشرب وحده، ويستنجي وحده. وقدره أبو بكر الرازي بتسع سنين، والفتوى على الأول. والأم والجدة أحق بالجارية حتى تحيض. وفي نوادر هشام عن محمد - رحمه الله تعالى-: إذا بلغت حد الشهوة فالأب أحق، وهذا صحيح. هكذا في التبيين... وإذا وجب الانتزاع من النساء أو لم يكن للصبي امرأة من أهله يدفع إلى العصبة فيقدم الأب، ثم أبو الأب، وإن علا. (الفتاى الهندية،كتاب الطلاق، الباب السادس عشر في الحضانة،ج:1،ص:541) (والحاضنة) أما، أو غيرها (أحق به) أي بالغلام حتى يستغني عن النساء وقدر بسبع وبه يفتى لأنه الغالب. ولو اختلفا في سنه، فإن أكل وشرب ولبس واستنجى وحده دفع إليه ولو جبرا وإلا لا (والأم والجدة) لأم، أو لأب (أحق بها) بالصغيرة (حتى تحيض) أي تبلغ في ظاهر الرواية. ولو اختلفا في حيضها فالقول للأم بحر بحثا. وأقول: ينبغي أن يحكم سنها ويعمل بالغالب.....وغيرهما أحق بها حتى تشتهي) وقدر بتسع، وبه يفتى، وبنت إحدى عشرة مشتهاة اتفاقا.(الدرالمختار،باب الخضانة،ج:3،ص:566) نفقة الأولاد الصغار على الأب لا يشاركه فيها أحد....فإن أبى أن يكتسب، وينفق عليهم، ويجبر على ذلك،ويحبس كذا في المحيط.(الفتاوى الهندية،كتاب الطلاق،الباب السابع عشر في النفقات،ج:1،ص:560) وفي الفتح: ويجبر الأب على أخذ الولد بعد استغنائه عن الأم لأن نفقته وصيانته عليه بالإجماع اهـ.(ردالمحتار على الدرالمختار،باب الحضانة،ج:3،ص:566) فتویٰ نمبر : 7275/297/324 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2025-10-02 نفقات
طلاق کے بعد بچوں کا نان نفقہ اور پرورش کی مدت پوری ہونے کے بعد بچوں کا حق دار
Question
میں نے ڈیڑھ سال پہلے اپنی بیوی کو ایک طلاق دی تھی۔ابھی چند دن پہلے میں نے یہ الفاظ کہے:"ما طلاقہ کڑی یی،ما طلاقہ کڑی یی"۔اب ظاہر ہے کہ بیوی تین طلاقوں سے مغلظہ بن چکی ہے،لیکن مسئلہ یہ ہےکہ میرے چار بچے ہیں دو لڑکے اور دو لڑکیاں۔ اب ان کی پرورش کی کیا صورت ہوگی اور ان کے نان نفقہ کا کیا ہوگا وہ میرے ذمے لازم ہوگایا نہیں؟نیز پرورش کی مدت پوری ہونےکے بعد بچے کس کے پاس ہوں گے؟
Answer
Related Fatwas
ایزی پیسہ سیونگ اکاؤنٹ میں رقم رکھ کر منافع حاصل کرنا
ایزی پیسہ ایپ میں ایک آپشن ہے سیونگ اکاؤنٹ کا ،اس میں اگر کوئی ایک متعین مدت کے لیے رقم رکھ دے …
قرض کے بدلے اضافی رقم کا مطالبہ
ایک شخص ACخریدرہا تھا، جس کی قیمت نقد ایک لاکھ روپےتھی، جبکہ قسطوں کی صورت میں قیمت ایک لاکھ بیس ہزار روپےتھی(یعنی قسطوں…
نقد کی نسبت زیادہ قیمت پر سونا ادھار بیچنا
زید نقد سونا خرید کربکر پرایک ہفتے کے ادھارپر فروخت کردیتا ہے، فریقین میں طے پاتا ہے کہ زید نے جس ریٹ…
نماز یا وظائف کے بعد سجدہ شکر ادا کرنا
اگر کوئی آدمی نماز یا وظائف کرنے کے بعد سجدہ شکر کرے تو کیا یہ جائز ہے یا نہیں؟
گمراہ عقائد رکھنے والے کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کسی شخص کے درج ذیل نظریات ہوں تو اس کا…
وی آئی پی حج پیکج کی سہولتوں کاحکم
ایک شخص "یاسر" جو سعودی عرب میں مقیم ہے، حج کی نیت سے نکلا۔ اس نے پہلے سے پیسے جمع کر رکھے…