نقد کی نسبت زیادہ قیمت پر سونا ادھار بیچنا

Reviewed Updated October 7, 2025 51

Question

زید نقد سونا خرید کربکر پرایک ہفتے کے ادھارپر فروخت کردیتا ہے، فریقین میں طے پاتا ہے کہ زید نے جس ریٹ پر سونا خریدا ہے، بکر اُسے1000روپے فی تولہ کے منافع کے حساب سے ایک ہفتہ بعد واجب الادا رقم دے گا، ایک ہفتے بعد سونے کا جو بھی بھاؤ ہو، بکر  طے شدہ ریٹ کے اعتبار سے زید کو رقم دے گا، کیا مذکورہ بالا لین دین ازروئے شریعت جائز ہے؟

Answer

واضح رہے کہ جن دو چیزوں کی جنس مختلف ہوتو ان کا آپس میں خرید وفروخت کمی بیشی یا ادھار کے ساتھ شرعاًجائز ہے، البتہ پیسوں کے بدلے سونے کی خرید وفروخت میں مجلس عقد میں کسی ایک عوض پر قبضہ لازم ہوگا؛ تاکہ بیع الکالی بالکالی(ادھار کے بدلے ادھار کی بیع) لازم نہ آئے۔ نیز ادھار معاملہ میں نقد کی نسبت زیادہ قیمت مقرر کرنا بھی شرعاًجائز ہے، تاہم مجلس عقد میں ادائیگی کی مدت اور قیمت کی تعیین ضروری ہے۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگرادائیگی کی مدت اور قیمت کی تعیین کرلی جائے تو نقدکی نسبت زیادہ قیمت پر سونا ادھار بیچنا جائز ہوگا، بشرطیکہ مجلسِ عقد میں کسی ایک عوض پر قبضہ ہو۔ ‌ ‌قال: "‌وإذا ‌عدم ‌الوصفان ‌الجنس والمعنى المضموم إليه حل التفاضل والنساء" لعدم العلة المحرمة. (الهداية في شرح بداية المبتدي، كتاب البيوع، باب الربا، ج:3، ص:61) البيع ‌مع ‌تأجيل ‌الثمن وتقسيطه صحيح يصبح البيع بتأجيل الثمن وتقسيطه بشرط أن يكون: أولا: بخلاف جنسه. (درر الحكام في شرح مجلة الأحكام، الباب الثالث، الفصل الثاني في بيان المسائل المتعلقة بالبيع بالنسيئة والتأجيل، رقم المادة:245، ج:1، ص:227) ‌لأن ‌للأجل ‌شبها ‌بالمبيع؛ ألا يرى أنه يزاد في الثمن لأجل الأجل. (الهداية في شرح بداية المبتدي، كتاب البيوع، باب المرابحة، والتولية، ج:3، ص:58) وروى الحسن عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - ‌إذا ‌اشترى ‌فلوسا ‌بدراهم وليس عند هذا فلوس ولا عند الآخر دراهم ثم إن أحدهما دفع وتفرقا جاز، وإن لم ينقد واحد منهما حتى تفرقا لم يجز كذا في المحيط. (الفتاوى الهندية، كتاب الصرف، الباب الثاني في أحكام العقد بالنظر إلى المعقود عليه، الفصل الخامس في بيع الفلوس، ج:3، ص:224) فتویٰ نمبر : 3941/297/322 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2025-10-07 کتاب البیوع(خریدوفروخت) بیع صرف

Share: WhatsApp Facebook Telegram X Copy