واضح رہے کہ طلاق کے الفاظ دو قسم پر ہیں:(1)صریح (2) کنایہ۔ طلاق اورطلاق سے مشتق الفاظ صریح سمجھے جاتے ہیں، جیسے: تجھے طلاق ہے، تو طلاق ہے، تو مطلقہ ہے، تو طالقہ ہے، میں آپ کو طلاق دیتا ہوں وغیرہ کے الفاظ طلاق صریحی کے الفاظ ہیں۔ اگر کسی نے بیوی کو صریح الفاظ کے ساتھ طلاق دے دی توان سے بغیر نیت کے طلاق واقع ہوجاتی ہے۔ کنایہ سے وہ لفظ مراد ہے جو طلاق کے لیے وضع نہ ہو، البتہ طلاق کے لیے استعمال ہوتا ہو اور غیر طلاق کے لیے بھی ہو۔جیسے: نکل جا، چلی جا وغیرہ، ان الفاظ کے کہنے سے اگر طلاق کی نیت کی ہو یا دلالت حال(مذاکرہ طلاق یا حالت غضب) سے یہ معلوم ہو کہ شوہر نے یہ لفظ طلاق کی نیت سے استعمال کیا ہے تو طلاق واقع ہوجاتی ہے۔ لیکن اگر کنائی الفاظ سے نہ تو شوہر نے طلاق کی نیت کی ہو اور نہ ہی اس کی حالت طلاق پر دلالت کرتی ہو تو ان الفاظ سے طلاق واقع نہیں ہوگی۔ نیزبسا اوقات بعض الفاظ عرف میں طلاق کے لیے استعمال ہونے کی وجہ سے ایک خاص حیثیت حاصل کرتے ہیں۔ ان کے بارے میں لفظ اور عرف کو دیکھ کر جواب دیا جاسکتا ہے۔ الطلاق على ضربين صريح وكناية فالصريح قوله أنت طالق ومطلقة وطلقتك فهذا يقع به الطلاق الرجعي لأن هذه الألفاظ تستعمل في الطلاق ولا تستعمل في غيره فكان صريحا وأنه يعقب الرجعة بالنص ولا يفتقر إلى النية لأنه صريح فيه لغلبة الاستعمال وكذا إذا نوى الإبانة لأنه قصد تنجيز ما علقه الشرع بانقضاء العدة فيرد عليه. (الهداية، باب ايقاع الطلاق، ج:3، ص:143) صريحه ما لم يستعمل إلا فيه) ولو بالفارسة (كطلقتك وأنت طالق ومطلقة) بالتشديد قيد بخطابها لانه لو قال: إن خرجت يقع الطلاق أو لا تخرجي إلا بإذني فإني حلفت بالطلاق فخرجت لم يقع لتركه الاضافة إليها (ويقع بها) أي بهذه الالفاظ وما بمعناها من الصريح، ويدخل نحو طلاغ وتلاغ وطلاك وتلاك أو ط ل ق۔ ( الدر المختار شرح تنوير الأبصار، كتاب الطلاق، باب الصريح،ج:4 ص:457) (كنايته) عند الفقهاء (ما لم يوضع له) أي الطلاق (واحتمله) وغيره فالكنايات (لا تطلق بها) قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال) وھی حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب، فالحالات ثلاث: رضا وغضب ومذاكرة. (الدر المختار شرح تنوير الأبصار، كتاب الطلاق، باب الكنايات في الطلاق، ج:4، ص:526) فتویٰ نمبر : 7324/297/324 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2025-12-07 کتاب الطلاق متفرق احکامِ طلاق
طلاق کے لیے استعمال ہونے والے الفاظ
Reviewed
Updated December 7, 2025
100
سوال
کس صورت میں کس لفظ کو کہنے سے طلاق پڑ جاتی ہے اس کے لیے بس طلاق کہنا ضروری ہے یا کسی دوسرے لفظ کے استعمال سے بھی طلاق ہوجاتی ہے؟
جواب
Related Fatwas
امام کی حالت معلوم نہ ہونے کی صورت میں مسافر مقتدی کی نماز کا حکم
اگر کوئی مسافر مسجد میں فرض نماز کی آخری رکعت میں شامل ہو جائے اور اسے یہ معلوم نہ ہو کہ امام…
May 10, 2026
5 min
89
سجدہ تلاوت کی تعداد کا یاد نہ ہونا
سجدہ تلاوت کی تعداد معلوم نہ ہو توکیا کریں؟
December 7, 2025
2 min
49
راستے میں ملنے والی رقم کو مدرسہ میں خرچ کرنا
میں نے راستے سے گزرتے ہوئے ایک ہزار کا نوٹ پایا ہے، کیا میں اس نوٹ کومدرسہ میں خرچ کرسکتا ہوں یا…
December 31, 2025
3 min
45
طواف کے بعد دو رکعت نماز كا بھول جانا
طواف کے بعد دو رکعت نماز پڑھنا واجب ہے، اور اگر کوئی پڑھنا بھول جائے تو کیا کرے؟
September 27, 2025
2 min
94
اجرت متعین نہ ہونے کی صورت میں اجارہ کا حکم
ایک شخص نے اپنی کار موٹر شوروم والے کے حوالہ کیا کہ اسے پانچ ہزار ڈالر میں فروخت کردو، اس سے زیادہ…
October 2, 2025
3 min
86