اس میں کوئی شک نہیں کہ مقتدی کے لئے امام کی حالت حضروسفر سے باخبر ہونا ضروری ہے، اگرامام کی حالت کا علم نہ ہو تو اس کی اقتدا درست نہیں ہوگی ، کیوں کہ امام کی حالت کا جاننا اقتدا کی صحت کے لئے شرط ہے ،تاہم ابتداہی سے اس کا جاننا ضروری نہیں بلکہ نماز کے درمیان یا امام کے سلام پھیرنے کے بعد امام کے اعلان سے حالت معلوم ہونے سے بھی یہ شرط پوری ہوجائے گی اور مقتدی کی نمازدرست ہوجائے گی ۔ صورتِ مسئولہ میں اگر مسافر کو امام کی حالت کا علم نہ ہو تو وہ وقت کی نماز کی نیت کر کے جماعت میں شامل ہو جائے اور رکعات کی تعداد کی نیت نہ کرے، پھر اگر امام نے سلام پھیرنے کے بعد اپنے مسافر ہونے کا اعلان کر دیا تو اس صورت میں مقتدی کی نماز ادا ہو جائے گی۔لیکن اگرامام کے سلام پھیرنے کے بعد بھی اس مسافر کو امام کی حالت معلوم نہ ہوجائے، تواس صورت میں ظاہر حال پر فیصلہ کیا جائے گا ۔ اگر شہریا گاؤں ہو یعنی رہائشی علاقہ ہو تو ظاہر یہی ہے کہ امام مقیم ہوگا اور اگر رہائشی علاقہ نہ ہو بلکہ راستے کی مسجد ہو یا کوئی ایسا قرینہ ہو جس سے یہ معلوم ہوتا ہو کہ امام مقیم نہیں ہے تو پھر امام کو مسافر سمجھا جائے گا۔ إذا اقتدى بالإمام لا يدري أمسافر هو أم مقيم لا يصح لأن العلم بحال الإمام شرط الأداء بجماعة۔ لا أنه شرط في الابتداء لما في المبسوط رجل صلى الظهر بالقوم بقرية أو مصر ركعتين وهم لا يدرون أمسافر هو أم مقيم فصلاتهم فاسدة سواء كانوا مقيمين أم مسافرين لأن الظاهر من حال من في موضع الإقامة أنه مقيم والبناء على الظاهر واجب حتى يتبين خلافه فإن سألوه فأخبرهم أنه مسافر جازت صلاتهم.(البحر الرائق شرح كنز الدقائق، باب صلاة المسافر، اقتداء مسافر بمقيم في الصلاة،ج:2،ص:145) (وندب للإمام) هذا يخالف الخانية وغيرها أن العلم بحال الإمام شرط لكن في حاشية الهداية للهندي الشرط العلم بحاله في الجملة لا في حال الابتداء. (قوله أن العلم) بفتح الهمزة بدل من الخانية على حذف مضاف أي كلام الخانية. ثم وجه المخالفة أنه إذا كان يشترط لصحة الاقتداء العلم بحال الإمام من كونه مسافرا أو مقيما لا يكون لقول الإمام أتموا صلاتكم فائدة لأن المتبادر أن الشرط لا بد من وجوده في الاقتداء واتفاقهم على استحباب قول الإمام ذلك لرفع التوهم ينافي اشتراط العلم بحاله في الابتداء (قوله لكن إلخ) أورد ذلك سؤالا في النهاية والسراج والتتارخانية ثم أجابوا بما يرجع إلى ذلك الجواب. وحاصله: تسليم اشتراط العلم بحال الإمام ولكن لا يلزم كونه في الابتداء فحيث لم يعلموا ابتداء بحاله كان الإخبار مندوبا وحينئذ فلا مخالفة فافهم وإنما لم يجب مع كون إصلاح صلاتهم يحصل به وما يحصل به ذلك فهو واجب على الإمام لأنه لم يتعين، فإنه ينبغي أن يتموا ثم يسألونه كما في البحر أو لأنه إذا سلم على الركعتين فالظاهر من حاله أنه مسافر حملا له على الصلاح، فيكون ذلك مندوبا لا واجبا لأنه زيادة إعلام كما في العناية. أقول: لكن حمل حاله على الصلاح ينافي اشتراط العلم، نعم ذكر في البحر عن المبسوط والقنية ما حاصله: أنه إذا صلى في مصر أو قرية ركعتين، وهم لا يدرون فصلاتهم فاسدة وإن كانوا مسافرين لأن الظاهر من حال من كان في موضع الإقامة أنه مقيم والبناء على الظاهر واجب حتى يتبين خلافه، أما إذا صلى خارج المصر لا تفسد، ويجوز الأخذ بالظاهر وهو السفر في مثله. والحاصل أنه يشترط العلم بحال الإمام إذا صلى بهم ركعتين في موضع إقامة وإلا فلا.(رد المحتارعلى الدرالمختار، كتاب الصلوة، باب صلاة المسافر، ج:2، ص: 169) فتویٰ نمبر : 10913/297/321 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2026-05-10 کتاب الصلوۃ امامت اورجماعت کے مسائل
امام کی حالت معلوم نہ ہونے کی صورت میں مسافر مقتدی کی نماز کا حکم
Question
اگر کوئی مسافر مسجد میں فرض نماز کی آخری رکعت میں شامل ہو جائے اور اسے یہ معلوم نہ ہو کہ امام مقیم ہے یا مسافر، تو اسے نماز قصر پڑھنی چاہیے یا مکمل؟
Answer
Related Fatwas
ہوٹل کا کمرہ استعمال نہ کرنے کی صورت میں کرایہ کی واپسی
ایک شخص نےہوٹل میں کمرہ بک کرایا اس کا کرایہ بھی جمع کرادیا،لیکن کمرہ استعمال نہیں کیا توکیا ہوٹل کا مالک کرا…
ضرر رساں کتوں کو مارنا
گاؤں میں کتوں کی بہتات کی وجہ سے ہم بہت زیادہ پریشانی کے شکار ہیں،اور کتوں کے کاٹنے کی وجہ سے مالی…
جہاں اذن عام نہ ہو وہاں نمازِ جمعہ
جی حضرت! ہمارے یہاں ڈینس سٹی میں امتیاز مارٹ کے نیچے بیسمنٹ میں ایک مسجد ہے، جہاں پانچ وقت کی نماز باجماعت…
اپنی جائز نوکری کے لیے پیسے دینا
ایک شخص نے سکول کی ٹیچری کےلیے ٹیسٹ دیا تھا ،جو کہ پاس ہوگیا ہے اور انٹرویو بھی ہوچکی ہے ،لیکن محکمہ…
مدرسہ کے لیے وقف شدہ زمین پر مسجد بنانا
ایک شخص نے بنات کے مدرسہ کے لئے زمین وقف کی، اس کے لیے لوگوں سے چندہ بھی جمع کیا اور بھٹہ…
پہلی طلاق کےرجوع کے بعد دوسری طلاق دینےکےبعدرجوع کا حکم
میں نے پانچ سال پہلےاپنی بیوی کو ان الفاظ کے ساتھ طلاق دی تھی کہ”میں نے تجھےپہلی طلاق دی“، پھر میں نے…