صورتِ مسئولہ میں زید نے عمر سے دس لاکھ روپے مسجد کی تعمیر کے لئے بطور قرض اس نیت سے لئے تھےکہ جیسے ہی مسجد کا چندہ ہوگایہ قرض ادا کروں گاتو اس صورت میں جمعہ کے چندوں میں جو رقم جمع ہوئی، اس سے اس نے عمر کا قرض ادا کیاتو یہ جائز ہے۔ کیونکہ زید نے قرض بھی مسجد کی تعمیر کے لیے لیا تھا اور چندہ بھی اسی مقصد کے لیے جمع کیا گیا تھا۔البتہ اس رقم کو کسی اور مصرف میں واقف یا عطیہ کرنے والوں کی اجازت کے بغیر استعمال کرنا درست نہیں ہوگا۔ فتاوی شامی میں ہے: "لا تجوز الاستدانة على الوقف إلا إذا احتيج إليها لمصلحة الوقف كتعمير وشراء بذر فيجوز بشرطين، الأول: إذن القاضي فلو ببعد منه يستدين بنفسه الثاني: أن لا تتيسر إجارة العين والصرف من أجرتها والاستدانة القرض والشراء نسيئة وفي الرد: وفي فتاوى الحانوتي الذي وقفت عليه في كلام أصحابنا أن الناظر إذا أنفق من مال نفسه على عمارة الوقف، ليرجع في غلته له الرجوع ديانة، لكن لو ادعى ذلك لا يقبل منه، بل لا بد أن يشهد أنه أنفق ليرجع كما في الرابع والثلاثين من جامع الفصولين. ۔۔۔ وفي الخيرية سئل في علية جارية في وقف تهدمت فأذن الناظر لرجل بأن يعمرها من ماله فما الحكم فيما صرفه من ماله بإذنه أجاب: اعلم أن عمارة الوقف بإذن متوليه: ليرجع بما أنفق يوجب الرجوع باتفاق أصحابنا وإذا لم يشترط الرجوع ذكر في جامع الفصولين في عمارة الناظر بنفسه قولين، وعمارة مأذونه كعمارته فيقع فيها الخلاف وقد جزم في القنية والحاوي بالرجوع وإن لم يشترط إذا كان يرجع معظم العمارة إلى الوقف اهـ. قلت: وفي الفصل الثاني من إجارات التتارخانية عن الحاوي سئل عمن آجر منزلا لرجل وقفه والده عليه وعلى أولاده وأنفق المستأجر في عمارته بأمر المؤجر قال: إن كان للمؤجر ولاية على الوقف يرجع بما أنفق على الوقف وإلا كان المستأجر متطوعا ولا يرجع على المؤجر اهـ وظاهره مع ما مر عن الخيرية أنه يرجع، وإن لم يكن في يد القيم مال من غلة الوقف، وهو خلاف ما قدمناه عن الخانية فيما لو أنفق من مال نفسه، فلعل ما هنا مبني على رواية أنه لا يشترط في الاستدانة إذن القاضي، وإلا فهو مشكل فليتأمل." (كتاب الوقف، مطلب في الاستدانة على الوقف، ج:4، ص:440/439، ط:سعید) وفیه ایضا: "مراعاة غرض الواقفين واجبة." (كتاب الوقف، مطلب في المصادقة على النظر، ج:4، ص:445، ط:سعید) البحر الرائق میں ہے: "والاستدانة أما إذا كان للوقف غلة فأنفق من مال نفسه لإصلاح الوقف كان له أن يرجع بذلك في غلة الوقف. اهـ." (كتاب الوقف، ج:5، ص:227، ط:دار الكتاب الإسلامي) وفيه ايضا: "وفي الحاوي ويجوز للمتولي إذا احتاج إلى العمارة أن يستدين على الوقف ويصرف ذلك فيها والأولى أن يكون بإذن الحاكم. اهـ." (كتاب الوقف، ج:5، ص:228، ط:دار الكتاب الإسلامي) فقط واللہ اعلم
مسجد کی تعمیر کے واسطے لیے گئے قرض کو مسجد کے فنڈز سے ادا کرنے کا حکم
Question
زید عمر سے مسجد کی تعمیر کے واسطے (1000000) دس لاکھ روپے قرض لیتا ہے، پھر زید اس رقم سے مسجد تعمیر کرواتا ہے، مسجد کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد مہینے کے چار جمعوں میں جو چندہ جمع ہوا، اس چندے کی رقم سے زید عمر کو دس لاکھ کا قرضہ چکاتا ہے، جو اس نے مسجد کی تعمیر کے لیے لیا تھا، آیا زید کے لیے ایسا کرنا درست ہے یا نہیں؟
Answer
Related Fatwas
صلوا في رحالكم کی تحقیق اور موجودہ دور میں اس کا استعمال
شدید بارش یا وبا کے وقت مؤذنین کا اذان میں "صلوا في رحالكم" کہنا کیا کسی روایت سے ثابت ہے؟ کیا موجودہ…
گھر خريدنے كے بعد تجارت كی نیت کرنے سے زکوۃ کا وجوب
ہم پانچ بہن بھائیوں نے ایک مشترکہ زمین بیچی جو وراثت میں تھی، اس کے بعد ایک عدد مکان خریدا، ہماری نیت…
واجب الاعادہ نماز کی جماعت میں نئے مقتدی کی اقتداکرنا
اگرامام صاحب باجماعت نماز میں غلطی کرےکہ ان سے کوئی واجب چھوٹ جائےتو جب وہ جماعت کے ساتھ اس نماز کو لوٹا…
طلاق کے لیے استعمال ہونے والے الفاظ
کس صورت میں کس لفظ کو کہنے سے طلاق پڑ جاتی ہے اس کے لیے بس طلاق کہنا ضروری ہے یا کسی…
عورت کا سفید لباس پہننا
عورت کے لئے سفید لباس کا استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟
ایزی پیسہ ریٹیلر کا بھجوانے والے اور جس کو بھیجا جارہا ہو دونوں سے کمیشن کاٹنا
ہمارا منی ٹرانزیکشن کا کاروبار ہے ،اس میں دو قسم اکاؤنٹ استعمال ہوتے ہیں، ایک ماسٹر اکاؤنٹ (جو کمپنی کا اکاؤنٹ ہوتا…