ویزہ حاصل کرنے کے لیے اپنے باپ کی جگہ کسی اور کا نام لکھنا

Reviewed Updated November 5, 2025 72

سوال

 ایک شخص ملائشیا میں رہتا ہے ،اس کو اپنی شناخت پر وہاں کا ویزہ(پرمٹ) نہیں لگتا ،اس لیے وہ اپنے والد کے نام کی  بجائے کسی دوسرے شخص کا نام لکھ کر پرمٹ حاصل کرنا چاہتا ہے،تو اس شخص کے لیے ایسا کرنا کیسا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ کسی بھی شخص کے لیے اپنی نسبت اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف کرنا جائز نہیں، رسول اللہ ﷺ نے اس شخص کے بارے میں  وعید دیتے ہوئے فرمایا  ہے کہ جس نے اپنی نسبت اپنے باپ کے لیے کسی اور کی طرف کی ،تو اس پر قیامت تک اللہ کی لعنت ہوگی، اسی طرح  فرمایا ہے کہ جو شخص یہ جانتے ہوئے کہ یہ میرا باپ نہیں اور پھر بھی اس کی طرف نسبت کرے،تو گویا اس نے اپنے اوپر جنت حرام کردی۔ صورت مسئولہ کے مطابق کسی شخص کے لیے ویزہ حاصل کرنے کے لیے باپ کی جگہ کسی اور کی طرف  نسبت کرنا جائز نہیں،اگر کسی نے ایسا کرلیا ہو ،تو اس پر توبہ و استغفار کرے۔   عن أنس بن مالك، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: «‌من ‌ادعى ‌إلى ‌غير ‌أبيه، ‌أو ‌انتمى ‌إلى ‌غير ‌مواليه، فعليه لعنة الله المتتابعة، إلى يوم القيامة.(سنن  أبي داؤد،كتاب الأدب،أبواب النوم،باب في الرجل ينتمي إلى غير مواليه،رقم الحديث:5115) ‌ويعلم ‌من ‌الآية ‌أنه ‌لا ‌يجوز ‌انتساب ‌الشخص ‌إلى ‌غير ‌أبيه، ‌وعد ‌ذلك ‌بعضهم من الكبائر لما أخرج الشيخان، وأبو داود عن سعد بن أبي وقاص أن النبي صلى الله تعالى عليه وسلم قال: «من ادعى إلى غير أبيه وهو يعلم أنه غير أبيه فالجنة عليه حرام» .(تفسير الألوسي روح المعاني،سورة الأحزاب،ج:11،ص:147) فتویٰ نمبر : 6518/297/328 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2025-11-04 کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) دیگرمتفرق مسائل

Share: WhatsApp Facebook Telegram X Copy