صورتِ مسئولہ میں اگر قبرستان میں موجود درخت قبرستان کی ضرورت سے زائد ہیں اور قبرستان کو ان کی ضرورت نہیں ہے تو متولی کی اجازت سے قبرستان کے درختوں کو مسجد یا مدرسہ میں لگا سکتے ہیں، اگر قبرستان کا کوئی متولی نہ ہو تو علاقہ کی مجاز سرکاری انتظامیہ کی اجازت سے مسجد میں لگائے جا سکتے ہیں۔ المحیط البرہانی میں ہے: "سئل نجم الدين عن أشجار في مقبرة هل يجوز صرفها في عمارة المسجد؟ قال: نعم إن لم تكن وقفا على وجه آخر، قيل له: فإن تداعت حوائط المقبرة إلى الخراب إنصرف اليها أو إلى المسجد قال: إلى ما وقفت عليه إن عرف وإن لم يكن للمسجد متولي ولا للمقبرة فليس للعامة التصرف فيها بدون إذن القاضي." (كتاب الوقف ، الباب الثالث والعشرون، جلد : 6 ، صفحه : 223 ، طبع : دار الكتب العلمية) فقط واللہ اعلم
قبرستان کے درختوں کو مسجد میں لگانا
سوال
ایک وقف شدہ قبرستان ہے، جس میں خود رو درخت ہیں، کیا ان درختوں کو کاٹ کر مسجد و مدرسے میں لگا سکتے ہیں یا نہیں؟ جب کہ قبرستان میں ان درختوں کے استعمال کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور یہ قبرستان دو ڈھائی سو سال پرانا ہے، ان درختوں کی نہ ابھی اور نہ بعد میں چل کر قبرستان کو کوئی ضرورت ہوگی، لیکن اتنی بات ہے کہ ان درختوں کے کاٹنے سے قبرستان کی زینت ختم ہو جاتی ہے اور ان درختوں کو کاٹ کر علاقے والے اس سے تابوت وغیرہ بھی بناتے ہیں، لیکن اس کے باوجود بھی وہ درخت زائد ہیں۔
جواب
Related Fatwas
شوہر کا خلع کے مطالبے کو حقوق واجبہ کی ادائیگی کے بعدقبول کرنے کا وعدہ کرنا
خلع نامہ میں عورت نے لکھا کہ:’’میں اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر یہ عرض کرتی ہوں کہ میں آپ…
بغیر لائسنس گاڑی چلانے پر ٹریفک جرمانے سے بچنےکے لیے کچھ رقم دینا
اگر کوئی ڈرائیور بغیر لائسنس یا مکمل کاغذات کے گاڑی چلاتا ہے، اور راستے میں ٹریفک پولیس چیکنگ کے دوران اسے روکتی…
کرنسی نوٹ کو نجاست سے پاک کرنے کا طریقہ
اگر کسی سے کرنسی نوٹ پر منی کے قطرے لگ کر ناپاک ہوجائے اور نوٹ پرانے ہوں ،تو اس کی پاکی کی…
قرض کی ادائیگی پر خوشی سے دی گئی اضافی رقم کا حکم
میرا پیشہ زرگر (سنار) کا ہے، تو بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ہمارے پاس سونا بکنے کے لیے آتا ہے، تو…
تخریج وتحقیقِ حدیث مبارک
اس حدیث مبارکہ کی تحقیق و تخریج مطلوب ہے: ابو احوص نے سماک سے ، انہوں نے ابراہیم سے ، انہوں…
گاڑی کو اجارہ پر دے کر اپنے لیےخاص نفع مقرر کرنا
ایک آدمی نے دوسرے شخص کو اپنی گاڑی کرایہ پر اس شرط کے ساتھ دی کہ آپ مجھے روزانہ آٹھ سوروپیہ دیں…