کسی عورت کا اپنی موروثی زمین بھائی کو دینا

Reviewed Updated May 3, 2026 25

Question

کیا کوئی عورت اپنے شوہر کی مرضی کے بغیر اپنے مرحوم والد سے ملنے والی جائیداد اپنے بھائی کو دے سکتی ہے؟

Answer

واضح رہے کہ جائیداد کسی مرد یا عورت کو اپنے والد سے بطور میراث مل جائے، تو وہ اس کی حق ملکیت بن جاتی ہے، چنانچہ وہ اس میں ہر قسم کا جائز تصرف کرنے کا حق رکھتی ہے چنانچہ اس کی مرضی ہے کہ وہ اس جائیداد کو اپنےذاتی استعمال میں لائے، فروخت کرے، یا اپنے بھائیوں ،اولاد، یا کسی اور کو ہبہ کر دے، نیزعورت کو اپنی ذاتی ملکیت میں تصرف کرنے کے لیے شرعا وقانونا اپنے شوہر سے اجازت لینا ضروری نہیں اس لیے وہ اپنی موروثی زمین شوہر کی اجازت کے بغیر بھی اپنے بھائی کو دے سکتی ہے، تاہم میاں بیوی کا باہم سمجھوتہ سے کوئی کام سر انجام دینا حسن معاشرت کا  تقاضہ ہے۔   ليس لأحد أن  يأخذ مال غيره بلا سبب شرعي۔ (شرح المجله لسليم رستم باز،الماده:97، ج:1ص:62) کل یتصرف فی ملكه کیف شاء ۔۔۔ لا یمنع أحد من التصرف فى ملكه أبد إلا إذا أضر به ضررا فاحشا۔ (شرح المجلة لسليم رستم باز، الماده:1197،1192،ج:2،ص:654) كل يتصرف في ملكه كيفما شاء. لكن إذا تعلق حق الغير به فيمنع المالك من تصرفه على وجه الاستقلال. (دررالحكام شرح مجلة الأحكام،المادة :1192،ج:3 ،ص:201) فتویٰ نمبر : 6624/297/328 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2026-05-03 کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) متفرقات

Share: WhatsApp Facebook Telegram X Copy