واضح رہے کہ والد اگر زندگی میں اپنے مال وجائیداد کو اولاد کے درمیان تقسیم کر کے اس کو حوالہ کر دے تو یہ اس کی طرف سے ہبہ شمار ہوگا اوراس میں مستحب طریقہ یہ ہے کہ بیٹا ہو یا بیٹی ہو سب کو برابر دے تاہم بیٹے کو بیٹی کا دگنا دینا بھی جائز ہے اس طرح والدین کو یہ بھی اختیار ہے کہ معقول ومعتبر سبب کی بنا پر کسی کے ساتھ ترجیحی سلوک کریں یعنی وہ اگر کسی اولاد کو کسی معقول وجہ سے زیادہ حصہ دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں نیز اگر والدین کسی کو جائیداد سے محروم کریں تو قضاءاً یہ نافذ ہوگا البتہ اس سے وہ گناہ گار ہوں گے۔ لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر سائل نے 20 سال پہلے 26مرلہ مکان 20 لاکھ روپے میں خرید کر اپنے 4 بیٹوں میں ہبہ کے طور پر برابر تقسیم کیا تھا تو اس کو چاہیئے کہ اگر وسعت ہو تو بیٹیوں میں سے ہر بیٹی کو بھی اتنا حصہ دےجتنا حصہ ہر بیٹے کو دیا تھا اور اگر ا س کی وسعت نہ ہو تو جو وسعت ہو اس کے مطابق بیٹیوں کو کچھ نہ کچھ ہبہ کر دینا چاہیئے۔ عن النعمان بن بشير أنه قال: إن أباه أتى به رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني نحلت ابني هذا غلاما كان لي، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أكل ولدك نحلته مثل هذا؟ فقال: لا. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: فارجعه. )صحيح مسلم، ج:2، ص:36) وفي الخانية لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني وعليه الفتوى ولو وهب في صحته كل المال للولد جاز وأثم. وقال ابن عابدين تحته: قوله: (وعليه الفتوى) أي على قول أبي يوسف: من أن التنصيف بين الذكر والأنثى أفضل من التثليث الذي هو قول محمد رملي. (رد المحتار على الدر المختار شرح تنوير الأبصار، ج:8 ص:501) فتویٰ نمبر : 6547/297/328 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2025-12-07 کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام)
اولاد کے درمیان زندگی میں جائیداد کی تقسیم
Question
ميں نے 20 سال پہلے 26 مرلہ مکان 20 لاکھ روپے میں خرید کر اپنے 4 بیٹوں میں ہبہ کے طور پر برابر تقسیم کیا ، اب مجھے یہاں علما کرام سے معلوم ہوا کہ آپ نے چونکہ بیٹوں کو اتنا دیا ہے اب بیٹیوں کو بھی اتنا دینا ہوگا کیونکہ اولاد کے درمیان اپنی زندگی میں جائیداد تقسیم کرنے کے لیے مساوات ضروری ہے ۔ میری سات بیٹیاں ہیں تو اب سوال یہ ہے کہ ان بیٹیوں کو 20 سال پہلی والی رقم دینی ہوگی یا موجودہ وقت کے حساب سے؟
Answer
Related Fatwas
رضاعی بہن کی نسبی بہن سے نکاح کرنا
ٓشاندانہ، اقراءکی رضاعی ماں ہے اب شاندانہ اپنے حقیقی بیٹے گلفام کا نکاح اقراء کی چھوٹی اورحقیقی بہن صدف سے کرنا چاہتی…
یو، دوا، درے، بولنے سے طلاق کاحکم
ایک دن گھریلو ناچاقی پر غصہ کی حالت میں، میں نے بیوی سے کہا "یو، دوا، درے نکل جاؤ میرے گھر سے"۔…
عشر کاشتکار پر یا مالکِ زمین پر
ایک شخص نے اپنی زمین اجارہ پر دی ہے، اور سالانہ 240000 ہزار روپے کرایہ وصول کرتا ہے، اب اس کا عشر…
طواف کے بعد دو رکعت نماز كا بھول جانا
طواف کے بعد دو رکعت نماز پڑھنا واجب ہے، اور اگر کوئی پڑھنا بھول جائے تو کیا کرے؟
اپنی منکوحہ کوفون پر تین طلاقیں دینے کا حکم
اگر کوئی شخص اپنی منکوحہ (جس کی رُخصتی نہ ہوئی ہو) کےبارے میں فون پریہ الفاظ کہ " وہ مجھ پر تین…
کاشتکاری میں زمین اور پانی کےعلاوہ باقی چیزوں میں شرکت کا حکم
ہم نے اپنے ایک ساتھی کے ساتھ زراعت کا معاملہ طے کیا اس طور پر کہ زمین اس ساتھی کی طرف سے…