اولاد کے درمیان زندگی میں جائیداد کی تقسیم

Reviewed Updated December 7, 2025 20

Question

ميں نے 20 سال پہلے 26 مرلہ مکان 20 لاکھ روپے میں خرید کر اپنے 4 بیٹوں میں  ہبہ کے طور پر برابر تقسیم کیا ، اب مجھے یہاں علما کرام سے معلوم ہوا کہ آپ نے چونکہ بیٹوں کو اتنا دیا ہے اب بیٹیوں کو بھی اتنا دینا ہوگا کیونکہ اولاد کے درمیان اپنی زندگی میں جائیداد تقسیم کرنے کے لیے مساوات ضروری ہے ۔ میری سات بیٹیاں ہیں تو اب سوال یہ ہے کہ ان بیٹیوں کو 20 سال پہلی والی رقم دینی ہوگی یا موجودہ وقت کے حساب سے؟

Answer

واضح رہے کہ والد اگر زندگی میں اپنے مال وجائیداد کو اولاد کے درمیان تقسیم کر کے اس کو حوالہ کر دے تو یہ اس کی  طرف سے ہبہ شمار ہوگا اوراس میں مستحب طریقہ یہ ہے کہ بیٹا ہو یا بیٹی ہو سب کو برابر دے تاہم بیٹے کو بیٹی کا دگنا دینا بھی جائز ہے اس طرح والدین کو یہ بھی اختیار ہے کہ معقول ومعتبر سبب کی بنا پر کسی کے ساتھ ترجیحی سلوک کریں یعنی وہ اگر کسی اولاد کو کسی  معقول وجہ سے زیادہ حصہ دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں نیز اگر والدین کسی کو جائیداد سے محروم  کریں تو قضاءاً یہ نافذ ہوگا البتہ اس سے وہ گناہ گار ہوں گے۔ لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر سائل نے 20 سال پہلے 26مرلہ مکان 20 لاکھ روپے میں خرید کر اپنے 4 بیٹوں میں  ہبہ کے طور پر برابر تقسیم کیا تھا  تو اس کو چاہیئے کہ اگر وسعت ہو تو   بیٹیوں   میں سے ہر بیٹی کو  بھی اتنا حصہ دےجتنا حصہ ہر  بیٹے کو دیا تھا اور اگر ا س کی وسعت نہ ہو تو جو وسعت ہو اس کے مطابق بیٹیوں  کو کچھ نہ کچھ ہبہ کر دینا چاہیئے۔   عن النعمان بن بشير أنه قال: إن أباه أتى به رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني نحلت ابني هذا غلاما كان لي، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أكل ‌ولدك ‌نحلته ‌مثل هذا؟ فقال: لا. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: فارجعه. )صحيح مسلم، ج:2، ص:36) وفي الخانية لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني وعليه الفتوى ولو وهب في صحته كل المال للولد جاز وأثم. وقال ابن عابدين تحته: قوله: (وعليه الفتوى) أي على قول أبي يوسف: من أن التنصيف بين الذكر والأنثى أفضل من التثليث الذي هو قول محمد رملي. (رد المحتار على الدر المختار شرح تنوير الأبصار، ج:8 ص:501) فتویٰ نمبر : 6547/297/328 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2025-12-07 کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام)

Share: WhatsApp Facebook Telegram X Copy