قرض کی واپسی میں مثل کے بجائے قیمت دینا

Reviewed Updated May 3, 2026 23

Question

ایک شخص نے دوسرے شخص سے ایک تولہ سونا لے لیا اور اس وقت سونے کی قیمت ایک لاکھ تھی اور اب تقریباً 5 لاکھ ہے اب مقروض قرض خواہ سے کہتا ہے کہ میں آپ کو ایک لاکھ دو ں گا اور دوسرا کہتا ہے کہ نہیں آپ نے مجھ سے ایک تولہ سونا لیا ہے آپ مجھے ایک تولہ سونا ديں گے تو اب کونسی صورت صحیح ہوگی رہنمائی فرمائیں؟

Answer

واضح رہے کہ شرعا قرض کی واپسی میں اسی چیز کی مثل واپس کرنا واجب ہوتا ہے جو بطور قرض لی گئی ہو۔ لہٰذا اگر کسی نے سونا بطور قرض لیا ہو تو اس پر لازم ہے کہ وہ اتنا ہی سونا واپس کرے۔ البتہ اگردونوں باہمی رضا مندی سےاس چیز کے مثل کے بجائے اس کی قیمت پر اتفاق کریں تو یہ بھی جائز ہے۔  صورتِ مسئولہ میں جب ایک تولہ سونا لیا گیا تھا تو مقروض پر ایک تولہ سونا ہی واپس کرنا واجب ہے، چاہے اس کی موجودہ قیمت پہلے سے زیادہ کیوں نہ ہو۔ البتہ اگر فریقین باہمی رضامندی سے سونے کے بدلے اس کی قیمت پر اتفاق کرلیں تو یہ بھی جائز ہے۔  لیکن قرض خواہ کی رضامندی کے بغیر قرض کی مقدار میں کمی کرنا جائز نہیں۔ تاہم اگر قرض خواہ اپنی خوشی سے کچھ معاف کر دے تو یہ جائز ہے۔   قد قالوا إن ‌الديون ‌تقضى ‌بأمثالها.(رد المحتار علی الدر المختار،کتاب الأيمان،ج:3،ص:789) أنه ‌لو ‌كانت ‌الدراهم ‌فضتها ‌خالصة ‌أو ‌غالبة ‌كريال ‌الفرنجي ‌في ‌زماننا فالواجب رد مثلها، وإن كانا في بلدة أخرى، لأن ثمنية الفضة لا تبطل بالكساد، ولا بالرخص أو الغلاء.(‌‌ردالمحتارعلی الدرالمختار،كتاب البيوع،باب المرابحة والتولية،‌‌فصل في القرض،ج:5،ص:163) ‌المديون ‌إذا ‌قضى ‌الدين ‌أجود ‌مما ‌عليه ‌لا ‌يجبر ‌رب ‌الدين ‌على ‌القبول ‌كما ‌لو ‌دفع ‌إليه ‌أنقص ‌مما ‌عليه، ‌وإن ‌قبل ‌جاز ‌كما ‌لو ‌أعطاه ‌خلاف ‌الجنس ‌وهو ‌الصحيح.(الفتاوی الهنديه،کتاب البیوع،الباب التاسع عشرفی القرض والاستقراض والاستصناع،ج:3،ص:204) فتویٰ نمبر : 4036/297/322 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2026-05-03 کتاب القرض والدین

Share: WhatsApp Facebook Telegram X Copy