واضح رہے کہ جب كوئی شخص کسی کاریگر سے مخصوص چیز بنانے کا مطالبہ کرےا وراس کو تمام اوصاف بیان کرے ، تو یہ معاملہ استصناع کہلاتا ہے ،استصناع میں آرڈر دینے والے کے بتائے گئے اوصاف کے مطابق چیز تیار کرنا شرعا جائز ہے۔ صورت مسئولہ کے مطابق كاریگر کےلیے گاہک کےآرڈر کے مطابق کیرٹ بنواناجائز ہے، لیکن گاہک کو چاہیے کہ اس کو آگے بہترین کوالٹی کے نام اورقیمت پر فروخت نہ کرےبلکہ گاہک کو تحقیق حال سےآگاہ کرکے اس پر فروخت کرے۔ (المادة 388) إذا قال شخص لأحد من أهل الصنائع: اصنع لي الشيء الفلاني بكذا قرشا وقبل الصانع ذلك انعقد البيع استصناعا. مثلا: لو أرى المشتري رجله لخفاف وقال له اصنع لي زوجي خف من نوع السختيان الفلاني بكذا قرشا وقبل البائع ، أو تقاول مع نجار على أن يصنع له زورقا ، أو سفينة وبين له طولها وعرضها وأوصافها اللازمة وقبل النجار انعقد الاستصناع. كذلك لو تقاول مع صاحب معمل أن يصنع له كذا بندقية ، كل واحدة بكذا قرشا وبين الطول والحجم وسائر أوصافها...(المادة 392) وإذا انعقد الاستصناع ; فليس لأحد العاقدين الرجوع وإذا لم يكن المصنوع على الأوصاف المطلوبة المبينة كان المستصنع مخيرا. (مجلة الأحكام العدلية، الباب السابع: في بيان أنواع البيع وأحكامه، الفصل الرابع في بيان الاستصناع، ص: 76) "(و) جاز (بيع عصير) عنب (ممن) يعلم أنه (يتخذه خمرا) لأن المعصية لا تقوم بعينه بل بعد تغيره وقيل يكره لإعانته على المعصية"[وقال ابن عابدين تحته:] (قوله ممن يعلم) فيه إشارة إلى أنه لو لم يعلم لم يكره بلا خلاف قهستاني. ( رد المحتار على الدرالمختار، كتاب الحظر والإباحة، فصل في البيع، ج: 6، ص: 391) "(المادة 164) التغرير توصيف المبيع للمشتري بغير صفته الحقيقية" تغرير، على وزن تفعيل وهو بمعنى الإخداع. ويقال للخادع غار وللمخدوع مغرور. وذلك كأن يقول البائع للمشتري: إن مالي يساوي كذا وهو لا يساوي ذلك فخذه، أو يقول المشتري للبائع: إن مالك لا يساوي أكثر من كذا، وهو يساوي أكثر من ذلك، فبعه لي به.أما الغرور فهو أن يخدع الإنسان نفسه بنفسه: وذلك كما لو باع البائع ماله بأنقص مما يساوي بدون تغرير من المشتري بقوله للبائع: إنه لا يساوي أكثر من كذا. (درر الحكام في شرح مجلة الأحكام، الکتاب الأول البيوع، مقدمة في بيان الاصطلاحات الفقهية المتعلقة بالبيوع، المادة: 164، ج: 1، ص: 130) فتویٰ نمبر : 3937/297/322 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2025-10-07 کتاب البیوع(خریدوفروخت) خریدوفروخت کے متفرق احکام
گاہک کے آرڈر کے مطابق کمزور کیرٹ میں سونابنانا
Question
میں ایک سنار کے ساتھ کام کررتا ہوں اوراس سنار کے پاس مختلف گاہک آتے ہیں ،اس سے آرڈر پر مختلف زیورات، چین،لاکٹ وغیرہ بنواتے ہیں ، اور اس میں بہترین کیرٹ کا آرڈربھی آتا ہے اور بسا اوقات کمزور کیرٹ کا آرڈر آتا ہے،اور گاہک کہتا ہے کہ یہی کیرٹ بنوانی ہےپھر ہم اس کے آرڈر کے مطابق سونے میں تانبا اورچاندی وغیرہ ڈالتے ہیں جس میں عام کیرٹ سے ملاوٹ زیادہ ہوتی ہے ،اب اس ملاوٹ کاکیا حکم ہے ؟ جبکہ ہم توگاہک کے حکم کی رعایت کرتے ہوئے زیادہ ملاوٹ کرتے ہیں ۔
Answer
Related Fatwas
دلہا دلہن کی عدم موجودگی میں مجموعی طور پر تین اشخاص کی موجودگی میں نکاح کا حکم
ایک نکاح اس طرح ہوا کہ مجلس میں تین شخص موجود تھے، ایک لڑکی کا والد، دوسرا لڑکے کا والد اور تیسرا…
زمین میں شریک بہن کو پیدوار کا عشر دینا
ہمارے والد محترم کا انتقال ہوچکا ہے، اس کی جائیداد ابھی تک تقسیم نہیں ہوئی ہے، ہم سب بھائی بہن اس جائیداد…
کسی ہسپتال کےلیے انشورنس کاڈیٹا تیارکرنااور اس کا معاوضہ لینا
امریکہ میں علاج کا نظام انشورنس کے تحت چلتا ہے، یعنی جو ڈاکٹر یا ہسپتال مریض کا علاج معالجہ کرتا ہے، اس…
نفاس کا خون چالیس دن کے بعد بھی آنا
اگر کسی خاتون کا بچہ پیدا ہوجائے اور چالیس دن گزر جائیں اور عورت کا خون اب بھی جاری ہو، تو کیا…
قبر پر پھول اور عرق گلاب ڈالنا
میت کی تدفین کے بعد اس کی قبر پر پھول اور عرق گلاب ڈالناکیسا ہے،کیاایسا کرنا نبی کریم ﷺکے عمل سے ثابت…
حالت جنابت میں کھانا پکانا
ہمبستری کی بعد اگر کوئی عورت صبح کو اٹھ کر غسل کرنے سے پہلے ناشتہ پکائے اور پھر غسل کرے تو کیا…