زانی اورمزنیہ کی اولاد کا آپس میں نکاح کرنا

Reviewed Updated December 31, 2025 24

Question

ہندہ اور زید نے اپنے بچے اور بچی کا آپس میں رشتہ طے کیا ہے جبکہ رشتہ طے کرنے کے بعد پتہ چلا ہے کہ بچپن میں ہندہ اور زید کے آپس میں ناجائز تعلقات تھے(نعوذ باللہ زنا تک نوبت رہی ہے بعد میں الگ الگ جگہ شادی ہو گئی ) کیا ان ناجائز تعلقات کی وجہ سے ان کے بچے اور بچی کی شادی میں کوئی مسئلہ تو نہیں ہے شرعی طور پہ یہ ایک دوسرے کے لیے جائز ہیں یا نہیں؟

Answer

واضح رہے کہ کسی مرد اور عورت کے زنا کرنے سے حرمت مصاہرت ثابت ہوجاتی ہے ،جس کی بنا پر جانبین کے اصول (باپ،دادا،ماں،دادی) وفروع (بیٹا،پوتا،بیٹی،پوتی) ایک دوسرے پرحرام ہو جاتے ہیں،لیکن جانبین کی اولاد کا آپس میں نکاح پر كوئی اثر نہیں پڑتا۔ صورت مسؤلہ میں زانی اورمزنیہ کی اولاد کا آپس میں نکاح جائز ہے۔   ‌أراد ‌بحرمة ‌المصاهرة الحرمات الأربع، حرمة المرأة على أصول الزاني وفروعه نسبا ورضاعا وحرمة أصولها وفروعها على الزاني نسبا ورضاعا كما في الوطء الحلال ويحل لأصول الزاني وفروعه أصول المزني بها وفروعها.(ردالمحتار علی الدر المختار،كتاب النكاح،فصل في المحرمات،:ج4،ص،107) فتویٰ نمبر : 7361/297/324 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2025-12-31 کتاب النکاح

Share: WhatsApp Facebook Telegram X Copy